لبنان : حزب اللہ کی غیرمعمولی کمزوری کا ماحول، صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ جمعرات کو ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

لبنان کی پارلیمان جمعرات کے روز نیا صدر منتخب کرنے جا رہی ہے۔ حکام کے خیال میں یہ انتخابی پیش رفت ملکی سیاست کے لیے ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ایسے ماحول میں جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ کے باعث ملک بری طرح ہل کر رہ گیا ہے، لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں اور بیروت بھی تباہی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ ملک میں حزب اللہ غیرمعمولی طور پر کمزور ہوگئی ہے ۔ جبکہ پڑوس میں حزب اللہ کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔

صدارتی عہدہ لبنان میں مسیحی آبادی کی نمائندگی کے لیے مختص رکھا گیا ہے۔ تاکہ اقتدار اور اختیار کی تقسیم غیرمتوازن نہ رہے۔

یہ عہدہ اکتوبر 2023 سے اس وقت سے خالی ہے جب مائیکل عون نے اپنی ٹرم پوری کر لی تھی۔ تب سے اب تک کوئی ایک سیاسی جماعت بھی اپنے امیدوار کے لیے ضروری ووٹوں کا حصول ممکن بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

لبنان کی پارلیمان 128 ارکان پر مشتمل ہے۔ جنہں بدھ کے روز ووٹنگ میں حصہ لینا ہے۔ تاہم یہ ارکان ابھی تک کسی متفقہ امیدوار پر راضی نہیں ہو سکے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی کمزوری کے بعد صدارتی انتخابی نتائج طاقت کے نئے توازن کا اشارہ دیں گے۔

لبنان میں ہونے والے یہ صدارتی انتخابات ایسے پس منظر میں ہو رہے ہیں جب پورا مشرق وسطیٰ سخت بحرانی کیفیت میں ہے۔ بشار الاسد کے خاندان کی کئی دہائیاں قائم رہنے والی حکومت ختم ہوگئی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کے حالات میں تبدیلی آگئی ہے۔ حزب اللہ کی اتحادی 'شیعہ امل ملیشیا' کے نبی بیری کی سیاسی پوزیشن میں تبدیلی ہے۔

ان حالات میں صدارتی امیدواروں کے لیے تین نام زیادہ نمایاں ہیں۔ فوج کے سابق جنرل جوزف عون جنہیں امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان کے علاوہ جہاد آزر جو ماضی میں آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار رہ چکے ہیں اور لبنان میں وزیر خزانہ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔۔ تیسرے امیدوار میجر جنرل الیاس البیساری ہیں جو کہ اس سے پہلے لبنان کی سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

لبنان کے عبوری وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اس موقع پر کہا ہے کہ 'ہم بہت خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ ہمیں جمعرات کے روز ایک نیا صدر ملے گا۔'

فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ صدارتی انتخاب لبنان کے لیے اچھا رہے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فرانس کے ایک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا یہ انتخاب لبنان میں امن لانے اور معاشی بہتری کے علاوہ سماجی بحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

تاہم دو مختلف ذرائع اور ایک تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کون سا امیدوار زیادہ ووٹ لے سکے گا۔ خیال رہے الیکشن جیتنے کے لیے پہلے راؤنڈ میں کم ازکم 86 ووٹ لینا ضروری ہیں یا پھر دوسرے راؤنڈ میں 65 ووٹ لینا ضروری ہیں۔

الیکشن میں مغربی قوتوں اور علاقائی قوتوں کے مفادات کا اظہار ووٹنگ سے ہوجائے گا۔

بدھ کے روز اسی سلسلے میں فرانس اور سعودی نمائندوں نے لبنانی سیاستدانوں کے ساتھ بیروت میں ملاقاتیں کی ہیں۔ چار لبنانی سیاسی ذرائع کے مطابق لبنانی سیاستدانوں نے سعودی شہزادہ یزید بن فرحان سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پچھلے ہفتے سعودی حمایت کے حوالے سے اطلاعات آئی تھیں کہ عون کے حق میں ہوگی۔ یہ لبنان میں ایک بڑا کھلاڑی ہے۔ جو تہران کے اثرات کو برابر کرنے کے لیے کافی ہے۔ جبکہ حزب اللہ ابھی تک منظر پر سامنے نہیں ہے بلکہ ڈوبی ڈوبی محسوس ہو رہی ہے۔

اہم بات ہے کہ عون کو امریکہ کی حمایت یافتہ فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔ تاہم الیکشن جیتنے کے لیے 86 ووٹ پہلے مرحلے میں لینا لازمی ہیں۔ عون کے انتخاب کی صورت میں لبنان کے دستور میں ترمیم کرنا ضروری ہوگا کہ وہ ابھی بھی سرکاری ملازمت میں ہیں۔ یہ بات بیری نے بتائی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'یہ لبنانیوں کا فیصلہ ہے کہ وہ کس کو صدر بناتے ہیں نہ کہ یہ اختیار امریکہ کا ہے اور نہ کسی اور بیرونی کھلاڑی کا ہے۔ ہمارا یہ مسلسل مؤقف ہے اور کوششیں ہیں کہ لبنان کے لوگ اپنا نیا صدر منتخب کریں کیونکہ لبنان کا صدر لبنان کے سیاسی استحکام اور اداروں کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔ '

حزب اللہ کے عہدیدار وافق صفا کا پچھلے ہفتے کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں کوئی ویٹو نہیں ہوگا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ جسے امریکہ نے دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے وہ عون کی حمایت نہیں کرے گا۔

واضح رہے عون نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نیز امریکہ اور پیرس کے حوالے سے بھی انہیں کافی اعتماد حاصل رہا۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پچھلے سال اکتوبر میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے کبھی بھی لبنان کے ساتھ اپنے رابطوں کو منقطع نہیں ہونے دیا۔ تاہم وہ یہ سمجھتا ہے کہ لبنانیوں کو کیا کرنا ہے۔ یہ دوسرے ملکوں کو لبنان کو نہیں بتانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں