اسرائیلی حملوں کی وجہ سےامدادی اداروں کو حدیدہ بندرگاہ سے امداد کی فراہمی میں مشکلات

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا یمن میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریزکیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ مغربی یمن کی اہم بندرگاہ کو نشانہ بنانے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے امداد پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔

تنظیم نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر شائع کی گئی ٹویٹس میں وضاحت کی کہ اس کی ٹیموں کو حدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے ان کی فراہمی میں ناکامی کی وجہ سے طبی اور انسانی امداد کو دوسری بندرگاہوں پر بھیجنا پڑا، جس کی وجہ سے مستحقین تک اس امداد کی ترسیل میں تاخیر ہوئی۔

بین الاقوامی تنظیم نے یمن میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعا کے ہوائی اڈے اور حدیدہ بندرگاہ پر حالیہ حملوں سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔

’ایم ایس ایف‘ نے تنازعہ کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اہم شہری بنیادی ڈھانچے کا احترام کریں تاکہ انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

حوثی گروپ نے اعتراف کیا ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو 313 ملین ڈالر سے زیادہ کا بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے گذشتہ جولائی سے تین الگ الگ حملوں میں، الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسیٰ بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے کئی حملے کیے گئے تھے۔

اکتیس اکتوبر 2023ء کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے پہلی بار اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل کو بڑی تعداد میں ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ بعد کے ادوار میں گروپ نے ایک سے زیادہ بار جنوبی اسرائیل میں مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے بارے میں بات کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں