جمعہ کے روز طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اسرائیل-حماس جنگ کے ابتدائی نو ماہ کے دوران غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد فلسطین کی وزارتِ صحت کے ریکارڈ کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ تھی۔
اسرائیل کی فوجی بربریت میں غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک تلخ بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
گذشتہ سال 30 جون تک غزہ کی وزارتِ صحت نے جنگ میں 37,877 ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔
تاہم ماہرین کے ملاحظہ کردہ ایک نئے مطالعے میں وزارت کے اعداد و شمار، ایک آن لائن سروے اور سوشل میڈیا کی معلومات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس وقت تک غزہ میں تکلیف دہ زخموں سے 55,298 اور 78,525 کے درمیان اموات ہوئیں۔
اس تحقیق میں اموات کی تعداد کا بہترین تخمینہ 64,260 تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ وزارتِ صحت کی اس وقت تک اموات کی ریکارڈ کردہ تعداد 41 فیصد کم تھی۔
اس تحقیق میں کہا گیا کہ یہ تعداد غزہ کی جنگ سے پہلے کی آبادی کا 2.9 فیصد یا 35 میں سے تقریباً ایک باشندے کی نمائندگی کرتی تھی۔
برطانیہ کے زیرِ قیادت محققین کے گروپ نے اندازہ لگایا کہ 59 فیصد اموات خواتین، بچوں اور بزرگ افراد کی تھیں۔
یہ تعداد صرف تکلیف دہ زخموں سے ہونے والی اموات کی تھی اس لیے اس میں صحت کی نگہداشت یا خوراک کی کمی یا ہزاروں لاپتہ افراد شامل نہیں جو ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔
اے ایف پی آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی اس تعداد کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
'ایک بہتر اندازہ'
محققین نے ایک شماریاتی طریقہ استعمال کیا جسے "کیپچر ری کیپچر" کہا جاتا ہے جو قبل ازیں دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات میں ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن میں وبائی امراض کی ایک ماہر زینا جمال الدین نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نے تجزیئے میں صرف ان لوگوں کو رکھا جن کی موت کی تصدیق ان کے رشتہ داروں نے یا مردہ خانے اور ہسپتال نے کی تھی۔"
برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں اطلاقی شماریات کے پروفیسر کیون میکانوے نے اے ایف پی کو بتایا کہ نامکمل ڈیٹا سے تخمینہ لگاتے وقت "لامحالہ بہت زیادہ غیر یقینی صورتِ حال" ہوتی تھی۔
لیکن انہوں نے اس بات کو "قابل تعریف" قرار دیا کہ محققین نے اپنے تخمینوں کو جانچنے کے لیے شماریاتی تجزیئے کے تین دیگر طریقے استعمال کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "مجموعی طور پر مجھے یہ اندازے معقول حد تک جاندار لگتے ہیں۔
’تنقید‘ دونوں طرف سے متوقع ہے
محققین نے خبردار کیا کہ ہسپتال کی فہرستیں ہمیشہ موت کی وجہ فراہم نہیں کرتیں اس لیے غیر تکلیف دہ صحت کے مسائل مثلاً ہارٹ اٹیک میں مبتلا افراد کا ان فہرستوں میں شامل ہونا ممکن تھا۔ یہ بات ممکنہ طور پر زیادہ تخمینہ کا باعث بنتا ہے۔
اس تحقیق میں لاپتہ افراد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اوچا نے کہا ہے کہ غزہ کے 10,000 لاپتہ باشندوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایسے اور بالواسطہ طریقے بھی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جنگ ہلاکتوں کا باعث ہو سکتی ہے مثلاً صحت کی نگہداشت، خوراک، پانی، صفائی کی کمی یا بیماری کا پھیلاؤ۔ اکتوبر 2023 سے یہ تمام مسائل غزہ کو درپیش رہے ہیں۔
جولائی میں دی لانسیٹ میں شائع کردہ ایک متنازعہ، ماہرین کی طرف سے غیر نظرثانی شدہ خط میں محققین کے ایک اور گروپ نے دیگر تنازعات میں دیکھی گئی بالواسطہ شرحِ اموات کا استعمال کرتے ہوئے یہ تجویز کیا کہ 186,000 اموات کو بالآخر غزہ جنگ سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔
جمال الدین نے توقع ظاہر کی کہ نئی تحقیق کے بارے میں "مختلف اطراف سے تنقید ہونے والی ہے"۔
اموات کی تعداد کے بارے میں بحث کرنے کے "جنون" کے خلاف بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ بہت زیادہ اموات ہوئی ہیں۔"