یہودی ماں بیٹے کا قتل اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہوا : اسرائیلی فوجی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی فوج کی طرف سے جمعہ کے روز کیبوتز نہل کے رہائیشی ماں بیٹے کے بارے میں تحقیقات سامنے لائی گئی ہیں۔ ان فوجی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ غالب خیال یہی ہے کہ ان دونوں کی موت اسرائیلی فوجیوں کی اپنی فائرنگ سے ہوئی تھی۔

سات اکتوبر کو کبوتز میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے کے دوران اسرائیلیوں کو بچانے کے لیے پہنچنے والے اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے پہلے ماں کو قتل کیا گیا اور بعد ازاں ایک عسکریت پسندوں کی گاڑی میں موجود اس کے بیٹے کو غزہ جانے سے پہلے ہی فوجیوں نے دور سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

واضح رہے سات اکتور کو فلسطینیوں کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے والے اسرائیلیوں میں سے کئی کی ہلاکت کے بارے میں اب تک کی فوجی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ اکثر زیر حراست ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی 'فرینڈلی فائرنگ' سے مارے گئے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ان کی لاشیں لا کر ورثا کے حوالے کر دیں۔

یہی بات اسرائیلی فوج کی ایک تازہ سامنے لائی گئی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ فوجیوں کے بیانات اور گواہیوں کے قلم بند کیے جانے کے علاوہ علاقے کے لوگوں کی طرف سے ملنے والے حقائق کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج میں ایک بڑی تعداد 'ریزرو فوجیوں' کی ہے۔ جو بہر حال ایک باقاعدہ فوج جیسی مہارت کے حامل نہیں ہو سکتے ۔ علاوہ ازیں لازمی فوجی بھرتی کے اسرائیلی نظام میں بہت سے نوجوان انتہائی مجبوری کے عالم میں فوج میں وقت گذار رہے ہوتے ہیں۔

جبکہ ایک تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو نوجوانی میں بندوق ہاتھ لگنے کو ' لائسنس ٹو کل' کے انداز میں لیتے ہوئے شیخی خورے کے طور پر ہی بغیر سوچے سمجھے فائرنگ کر دیتے ہیں۔ اسرائیلی انہی لوگوں کی 'فرینڈلی فائرنگ' کا نشانہ بنتے ہیں۔

جمعہ کے روز سامنے لائی گئی فوجی انکوائری کے مطابق تومر الیزا اراوا اور اس کی والدہ ڈکلا اراوا دونوِں 'کبوتز نہل اوز' کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ ان کی بستی ان آبادیوں میں شامل تھی جسے سات اکتوبر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔

فوج کی انکوائری میں کہا گیا ہے کہ الیزا اراوا کو پہلے مزاحمت کاروں نے قابو کیا اور اسے ساتھ لے کر دوسرے لوگوں کے دروازے اس کی مدد سے کھلواتے رہے ۔ اس اسرائیلی نوجوان کو دیکھ کر لوگ باہر آجاتے تھے۔ تاہم ایک گھنٹے تک دروازے کھلوانے کی اس مشق کے بعد کسی طرح یہ اسرائیلی نوجوان بھاگنے اور بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

اسی دوران اسرائیلی فوجی بھی اس علاقے میں شہریوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے ، مگر ان فوجیوں نے ہڑ بڑاہٹ اور نا سمجھی میں ہراس پھیلانے کی غرض سے ایک شخصیت کو ہی گولی مار دی جو اسرائیلی تھی۔ فوجیوں کو اس پر شبہ ہوا تھا۔ یہ ہلاک ہونے والی شخصیت تومرالیزا اراوا تھی۔ جسے غلطی سے فوجیوں نے مار دیا تھا۔

فوجیوں کے بیان کے مطابق اس دوران حماس کے جنگجو تومر الیزا اراوا کی والدہ کو گاڑی میں بٹھا چکے تھے۔ یہ گاڑی غزہ کی طرف جا رہی تھی۔ فوجیوں نے اس گاڑی پر پیچھے سے فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں تومر کی والدہ کی بھی ہلاکت ہو گئی۔

فوجیوں کے مطابق ماں اور بیٹوں کو فائرنگ سے مارنے کی وجہ یہ بنی کہ ہم دونوں موقعوں پر یہ اندازہ نہ کر پائے کہ ہمارے اپنے لوگ ہیں یا اس سے اپنے شہریوں کی جان بھی جا سکتی ہے۔ یاد رہے سات اکتوبر کے بعد اسرائیل عوام کو معلوم ہوا کہ بہت سی ہلاکتیں تو خود اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں سے ہو گئیں۔ جس پر تشویش ہوئی۔

اسی علاقے 'کبوتز بیری' میں ایک اور واقعہ کے اسرائیلی عینی شاہدوں نے دیکھا کہ ایک اسرائیلی ٹینک نے ایک گھر پر حملہ کر کے 14 اسرائیلیوں کو ہی ہلاک کر دیا تھا۔ فوجیوں کا کہنا تھا وہ ٹینک سے فلسطینیوں کا حملہ روکنے آئے تھے۔

شاید یہی حالات تھے جب اسرائیل کو سات اکتوبر میں اپنی ہلاکتوں کے پہلے دعوے کو بھی تبدیل کرنا پڑا تھا کہ وہ اپنے ریزروز اور جبری بھرتی شدہ فوجیوں پر بھروسہ کر کے دعوے کر رہی تھی۔ حالانکہ ان کے اعداد و شمار کے دعوے بھی ایسے ہی ابتدائی طور پر جذباتی پن کے باعث سامنے آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں