’شام پر یورپی پابندیوں میں جلد نرمی ہوگی مگر خطرے کی تلوار کھینچی رہے گی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کے اعلان کے بعد کہ وہ جنوری کے آخر میں برسلز میں ہونے والے اجلاس میں شام پر سے پابندیاں ہٹانے پر غور کرے گی، یہ نکتہ اب بھی اس معاملے کی جڑ اور شام کی نئی انتظامیہ کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔

العربیہ اور اس کے برادر ٹی وی چینل الحدث کے نامہ نگار نے برسلز میں باخبر ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ چھ یورپی ممالک اب شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن میں جرمنی، فرانس، ہالینڈ، اسپین، فن لینڈ اور ڈنمارک شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے بارے میں بات یورپی یونین کے ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران ہوئی اور اس میں نقل و حمل، تیل ، گیس کے شعبے اور بینکنگ سرگرمیاں شامل ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے احترام کے لیے اقدامات کے نفاذ سے مشروط ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ توقع ہے کہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان پیر 27 جنوری 2025 ءکو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ یورپی سفارت کاروں نے تصدیق کی کہ یورپی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ریاض میں منعقدہ اجلاس کے نتائج پر مبنی ہے جس میں شام کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین شام میں اصلاحات کو تحریک دینے کے لیے پابندیوں کی تلوار لٹکائے رکھے گی۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے شام کے بارے میں ریاض کانفرنس کے موقع پر شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ شام پر بشارالاسد کے دور میں عائد کی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے لیے کچھ شرائط ہیں جنہیں شام کی نئی انتظامیہ کو پورا کرنا ہوگا۔

اپنے’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک مختصر بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ نئی انتظامیہ کو اب ایک پرامن اور جامع منتقلی کا عمل شروع کرنا چاہیے جو تمام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "پھر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اس بات پر بات کریں گے کہ پابندیوں کو کیسے کم کیا جائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں