رفح گزر گاہ کے کھولے جانے کی تفصیلات، حماس کا کوئی دخل نہیں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

یورپی یونین رفح کی زمینی گزر گاہ کی تکنیکی طور پر نگرانی کرے گی جس کو جنگ بندی کے سات روز بعد کھولا جائے گا تا کہ مریضوں اور زخمیوں کو منتقل کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ 50 مریض اس گزر گاہ پر ابو سالم گیٹ وے کے راستے کوچ کریں گے۔ اس دوران میں فلسطینی اتھارٹی کے تین اور یورپی یونین کے مشن کے سات افراد وہاں موجود ہوں گے۔

ان افراد کا قیام اسرائیل کے اندر ہو گا اور گزر گاہ کے کام میں حماس کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔

غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں فلاڈلفیا گزر گاہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد تین فریقوں (اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی، یورپی یونین) کی آمادگی سے پھنسے ہوئے افراد کو واپسی کی اجازت دی جائے گی۔ واپسی کے لیے قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے کو پیشگی درخواست دینا ہو گی۔

یاد رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا ایک وفد جمعرات کے روز قاہرہ پہنچا تھا۔ اس کا مقصد آئندہ عرصے میں رفح کی گزر گاہ کے کام کے حوالے سے مصری انٹیلی جنس کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔

یہ وفد فلسطینی اتھارٹی میں گزرگاہوں اور سرحد کے ڈائریکٹر جنرل نظمی مہنا کے زیر قیادت آیا ہے۔ کل اتوار کی صبح یورپی یونین کا ایک اعلی سطح کا وفد قاہرہ پہنچے گا جو نظمی مہنا اور مصری انٹیلی جنس سے ملاقات کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں