کردوں کی طرف سے الگ فوجی بلاک برقرار رکھنے کی تجویز: شام کے وزیرِ دفاع کا انکار

"وہ وزارتِ دفاع کے مراتب کے اندر رہتے ہوئے وزارتِ دفاع میں داخل ہوں۔"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کے نئے وزیرِ دفاع نے اتوار کو کہا کہ ملک کے شمال مشرق میں مقیم امریکی حمایت یافتہ کرد باغیوں کے لیے وسیع تر مربوط شامی مسلح افواج کے اندر اپنا بلاک برقرار رکھنا درست نہیں ہو گا۔

دمشق میں وزارتِ دفاع میں رائٹرز سے بات کرتے ہوئے مرھف ابو قصرۃ نے کہا کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کہلانے والے کرد باغیوں کی قیادت اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

ایس ڈی ایف جس نے 14 سال کی خانہ جنگی کے دوران ایک نیم خودمختار علاقہ تشکیل دیا ہے، دمشق میں سابق باغیوں کی قیادت میں نئی انتظامیہ کے ساتھ گفتگو کر رہی ہے جنہوں نے آٹھ دسمبر کو صدر بشار الاسد کا تختہ الٹا تھا۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ ان کے مرکزی مطالبات میں سے ایک غیر مرکزی انتظامیہ ہے۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے الشرق نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایس ڈی ایف وزارتِ دفاع کے ساتھ انضمام کے لیے تیار ہے لیکن ایک "فوجی بلاک" کے طور پر اور تحلیل کیے بغیر۔

ابو قصرۃ نے اتوار کو اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

تقریباً ایک ماہ قبل وزیرِ دفاع مقرر ہونے والے ابو قصرۃ نے کہا، "ہم کہتے ہیں کہ وہ وزارتِ دفاع کے مراتب کے اندر رہتے ہوئے وزارتِ دفاع میں داخل ہوں گے اور انہیں فوجی طریقے سے تقسیم کیا جائے گا - ہمیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ وزارتِ دفاع کے اندر ملٹری بلاک بنے رہیں تو ایک بڑے ادارے کے اندر ایسا بلاک درست نہیں۔"

اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیر کی ترجیحات میں سے ایک شام کے سینکڑوں الاسد مخالف دھڑوں کو ایک متحد کمان میں ضم کرنا ہے۔

لیکن ایس ڈی ایف کے ساتھ ایسا کرنا چیلنجنگ ثابت ہوا ہے۔ امریکہ اس گروپ کو داعش کے خلاف اہم اتحادی خیال کرتا ہے لیکن ہمسایہ ملک ترکیہ اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ابو قصرہ نے کہا کہ انہوں نے ایس ڈی ایف کے رہنماؤں سے ملاقات کی لیکن ان پر انضمام پر مذاکرات میں "تاخیر" کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ انہیں دیگر سابق باغی دھڑوں کی طرح وزارتِ دفاع میں شامل کرنا "شام کی ریاست کا حق" تھا۔

ابو قصرہ کو ھئیۃ تحریر الشام کے الاسد کو معزول کرنے کے تقریباً دو ہفتے بعد عبوری حکومت میں تعینات کیا گیا تھا جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ انضمام کا عمل بشمول کچھ سینئر فوجی شخصیات کی تقرری یکم مارچ تک مکمل کر لیں گے جب عبوری حکومت کا وقت ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے اس تنقید کا کیا جواب دیا کہ ایک عبوری کونسل کو ایسی تقرریاں اور نہ ہی فوجی ڈھانچے میں اس طرح کی بڑی تبدیلیاں کرنی چاہئیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، "سکیورٹی کے مسائل" نے نئی ریاست کو اس معاملے کو ترجیح دینے پر آمادہ کیا۔

انہوں نے کہا، "ہمیں بروقت یہ کام مکمل کرنا ہے اور ہر ایک دن اہم ہے۔"

مصری اور اردنی باشندوں سمیت بعض غیر ملکیوں کو نئی فوج میں شامل کرنے کے فیصلے پر بھی نئی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ابو قصرہ نے تسلیم کیا کہ اس فیصلے نے لوگوں کو آگ بگولہ کر دیا لیکن کہا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی سپاہی کی حوالگی کی درخواست سے آگاہ نہیں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں