غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتوار کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک ملبے تلے اپنے پیاروں کی لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں اور کھنڈرات میں تبدیل ہونے والے اپنے گھروں باقیات کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اسی دوران اسرائیل نے ایک نئی وارننگ جاری کردی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں غزہ کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ متعدد علاقوں میں خاص طور پر نیٹزاریم کوریڈور پر اسرائیلی افواج کے قریب نہ جائیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فوج اب بھی کئی ایسے علاقوں میں موجود ہے جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق جن میں بتدریج انخلاء طے کیا گیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنوب سے شمالی غزہ یا نیٹزاریم کی طرف بڑھنا اب بھی خطرناک ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے غزہ کی پٹی کے شمال میں بفر زونز اور رفح کراسنگ اور جنوب میں مصر کے ساتھ فلاڈیلفیا سرحدی محور تک پہنچنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے قریب سمندر میں ماہی گیری یا تیراکی اب بھی خطرناک ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اگلے چند دنوں تک اس کے قریب نہ جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ اگر حماس جنگ بندی پر عمل کرلیتی ہے تو شمال کے باشندے اگلے ہفتے واپس آسکیں گے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی وحشیانہ جنگ کے بعد اتوار 19 جنوری کو عمل میں آیا اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ معاہدے میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ پوری تباہ شدہ پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلاء بھی شامل ہے۔ جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ بعد میں کچھ اسرائیلی بیانات نے جنوبی غزہ کی پٹی میں فلاڈیلفیا کراسنگ کی قسمت کے بارے میں ابہام پیدا کردیا ہے خاص طور پر اس لیے بھی کیونکہ اسرائیل نے پہلے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔