غزہ : اسرائیل کا امدادی سامان کی ترسیل میں التوا یرغمالیوں کی رہائی کو متاثر کرے گا،حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے بدھ کے روز الزام لگایا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ میں آنے والی امداد کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ تاکہ امداد کے پہنچانے میں التوا آتا رہے۔ اسرائیل کی یہ کوششیں جنگ بندی معاہدے کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔

اس امر کا اظہار حماس کے دو رہنماؤں نے اسرائیل کو یہ انتباہ کرتے ہوئے کیا 'اسرائیل کے ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے یرغمالیوں کی رہائی پر برا اثر آسکتا ہے۔'

'ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسرائیلی ہتھکنڈوں کا تسلسل اور جنگ بندی معاہدے پر عمل میں ناکامی جہاں غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان میں رکاوٹ بنے گی وہاں پر فطری طور پر اس کا اثر جنگ بندی معاہدے کے دوسرے پہلوؤں پر بھی ہوگا۔ حتی کہ قیدیوں کے تبادلے بھی متاثر ہوں گے۔'

دونوں رہنماؤں نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر یہ بات 'اے ایف پی' سے بدھ کے روز کہی ہے۔

ایک اور سینیئر رہنما نے بھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا 'ہم نے اس سلسلے میں ثالث ملکوں سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ وہ معاملے میں مداخلت کریں اور امدادی سامان میں التوا کے اسرائیلی ہتھکنڈوں کو روکیں۔'

حماس کے حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو انتہائی اہم اور کلیدی نوعیت کی امدادی اشیاء کی ترسیل میں اسرائیل بطور خاص ناکام ہو رہا ہے۔ ان میں خیمے، ایندھن اور ملبہ اٹھانے سے متعلق آلات اور مشینری کے علاوہ چھوٹے آلات بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 19 جنوری سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اطلاق ہو چکا ہے۔ تاہم حماس نے شکایت کی ہے کہ اسرائیلی حکومت امداد کی ترسیل کو معاہدے کے مطابق موقع دینے میں ناکام ہے۔

مزاحمتی تحریک نے اس صورتحال کو جنگ بندی معاہدے پر عمل اور انسانی بنیادوں پر جاری امدادی سامان کی ترسیل کے منافی ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔

اس معاملے کو حماس نے قاہرہ میں ہونے والے بدھ کے روز کے اجلاس میں بھی اٹھایا ہے جس میں ثالث ملکوں کے نمائندے موجود تھے۔ حماس کے دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ ثالث ممالک ان ممکنہ معاملات میں ضمانت دیں گے کہ وہ اسرائیل کو خرابی نہیں کرنے دیں گے اور امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل آسان رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں