ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعرات کو حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے قطر کا دورہ کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں "16 ماہ کی اساطیری مزاحمت میں فلسطینی عوام کی فتح کو سراہنے کے لیے" حماس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔
سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے سے شروع ہونے والی اس جنگ میں بعد ازاں لبنان کی حزب اللہ شامل ہو گئی اور ازلی حریفوں اسلامی جمہوریہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملے کا باعث بنی۔
ایک جنگ بندی 19 جنوری کو شروع ہوئی جس میں سات اکتوبر 2023 کو یرغمال بنائے گئے 33 اسرائیلیوں کو 1,900 افراد کے بدلے رہا کر دیا جائے گا جن میں زیادہ تر فلسطینی شامل ہیں۔
منگل کے روز ایران کے قائدِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے کہا کہ غزہ تنازع اسرائیل کو اس کے "گھٹنوں پر" لے آیا تھا۔
انہوں نے تہران میں ایک اجلاس کے دوران کہا، "چھوٹا اور محدود سا غزہ ہتھیاروں سے مزین اور امریکہ کی مکمل حمایت یافتہ صیہونی حکومت کو گھٹنوں تک لے آیا ہے"۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 22 جنوری کو ایران کے نائب صدر محمد جواد ظریف نے اعتراف کیا کہ اسرائیل پر حماس کے حملے نے تاریخی جوہری معاہدہ بحال کرنے کے لیے مذاکرات کا موقع "برباد" کر دیا۔