حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ہفتہ کے روز مزید تین یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت رہا کر دیا جائے گا۔ ان میں ایک امریکہ کی شہریت رکھنے والا اسرائیلی شہری بھی شامل ہے۔
حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹیلی گرام' چینل پر بتایا ہے 'ان قیدیوں میں یردن بیباس، کیتھ سیگل اور اوفر کرڈیرون شامل ہوں گے۔ جنہیں ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔'
واضح رہے یردن بیباس سب سے کم عمر اسرائیلی قیدی کے والد ہیں۔ سب سے کم عمر قیدی کفیر کی عمر 2 سال ہے۔
علاوہ ازیں تقریباً 6 سال کی عمر کا ایک اور قیدی ایریئل بھی غزہ میں قید تھا۔ اس کم عمر قیدی کی ماں بھی 7 اکتوبر کو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی حراست میں آئی تھی۔ تاہم بعدازاں اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں جنگ کے شروع کے مہینوں کے دوران ہی یہ تینوں بمباری سے ہلاک ہوگئے تھے۔
کفیر کے 34 سالہ والد یردن کو بھی 7 اکتوبر کو فلسطینی جنگجوئوں نے گرفتار کیا تھا۔ جو گرفتاری کے وقت زخمی ہوگیا اور اس کے زخمی ہونے کی ویڈیو سرکولیٹ ہوگئی۔
اسرائیلی امریکی شہری کیتھ سیگل کو اس کی اہلیہ اویوا سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس کی اہلیہ کو پچھلے سال نومبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔
اوفر کرڈیرون کے علاوہ اس کے دو بچے بھی حراست میں لیے گئے تھے۔ اس کے دونوں بچوں کو بھی عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت نومبر 2023 میں رہائی مل گئی تھی۔
ادھر جمعرات کے روز حماس نے 3 اسرائیلی اور 5 تھائی قیدیوں کو رہائی دی ہے۔ جبکہ اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں اسرائیل نے 110 فلسطینیوں کو کچھ دیر کی تاخیر کے بعد رہا کر دیا ہے۔
واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً ساڑھے 15 ماہ کی جنگ کے بعد 19 جنوری سے نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں 33 اسرائیلی قیدی رہائی پائیں گے اور ان کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو رہائی ملے گی۔
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 42 دنوں پر محیط ہوگا۔ جبکہ 6 ہفتوں کے دوران قیدیوں کا تبادلہ مکمل کر لیا جائے گا۔
فلسطینی اسیران میں کئی ایسے بھی ہیں جنہیں اسرائیل نے سزائے عمر قید دے رکھی ہے۔
90 فلسطینی قیدی جنہیں اب تک رہائی مل چکی ہے ، ان میں سے 9 عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے جبکہ 81 کو لمبی سزائے قید سنائی گئی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس سلسلے میں کافی زیادہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں کہ ان کی حکومت اور طویل جنگ کے باوجود نہ صرف یہ کہ حماس سے قیدیوں کو چھڑایا جا سکا ہے بلکہ نیتن یاہو کی حکومت نے جان بوجھ کر جنگ بندی معاہدے اور قیدیوں کی رہائی کو التوا میں ڈالے رکھا ہے۔
جیسا کہ حماس کا کہنا ہے کہ اس کی طرف سے نومبر 2023 میں قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں آمادگی کو اسرائیل نے کمزوری سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر قیدیوں کی رہائی کو اب تک التوا میں رکھا اور اس دوران کئی بار قیدیوں پر بمباری کر کے انہیں بھی ہلاک یا زخمی کر دیا۔
اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ اور عام اسرائیلی شہری بشمول سابق سینیئر فوجی افسران اور سیاستدان جنگ بندی معاہدے کی اس تاخیر پر نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جبکہ نیتن یاہو کے انتہا پسند اتحادی اب بھی اس جنگ بندی معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی شکست اور تباہی کا نام دیتے ہیں۔
نیتن یاہو کے ان اتحادیوں کے لیے غزہ میں حماس کی قوت کا منظم انداز میں باقی رہ جانا سخت تکلیف اور اذیت کا باعث ہے۔ اس لیے ان کی کوشش ہے کہ پہلے مرحلے کی جنگ بندی مکمل ہونے کے ساتھ ہی اسرائیل ایک بار پھر غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کردے۔ خود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی جنگ بندی کے بعد اس طرح کی کئی بار دھمکی دے چکے ہیں۔
نیتن یاہو کی حکومت اور ان کے اتحادیوں کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی یہ تجویز بڑے حوصلہ افزا ہے کہ غزہ سے 10 لاکھ فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں منتقل کر دیا جائے۔ تاکہ غزہ کی صفائی ہو سکے۔
واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے دوران 47000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جن میں دو تہائی کے قریب فلسطینی بچے اور خواتین ہیں۔ جبکہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی زائد ہے۔