اسرائیلی پابندی کے باوجود انروا کا کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوامِ متحدہ کی فلسطینی امدادی ایجنسی نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں اور غزہ میں اس کا انسانی ہمدردی کا کام جمعے کو بھی جاری تھا حالانکہ ایک دن قبل اسرائیلی پابندی کا اطلاق ہوا اور انروا نے اسے اپنے عملے کے خلاف دشمنی قرار دیا تھا۔

اکتوبر میں منظور کردہ یہ اسرائیلی قانون 30 جنوری سے اسرائیل کی سرزمین بشمول الحاق شدہ مشرقی یروشلم میں انروا کی کارروائیوں اور اس کے اسرائیلی حکام سے رابطے پر پابندی لگاتا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے جمعہ کے روز اسرائیل کے اس نئے قانون پر عمل درآمد پر اپنی تشویش کا اعادہ کیا جس کے بارے میں انسانی ہمدردی کے اداروں کا خیال ہے کہ تباہ شدہ غزہ پر اس پابندی کا کافی منفی اثر ہو گا کیونکہ عملہ اور سامان اسرائیل کے راستے فلسطینی علاقے تک پہنچایا جا رہا ہے۔

انروا کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولیٹ ٹوما نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا، "ہم خدمات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غزہ میں انروا بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے کاموں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے پاس غزہ میں بین الاقوامی اہلکار موجود ہیں اور بنیادی امدادی سامان کے ٹرک آ رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "اگر انروا کو سامان لانے اور تقسیم کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو اس انتہائی نازک جنگ بندی کی قسمت خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔"

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں بھی دسیوں ہزار فلسطینی پناہ گزین انروا سے تعلیم، صحت اور دیگر خدمات حاصل کرتے ہیں۔

توما نے کہا کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ان کے فلسطینی عملے کو مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کسی پر الزام عائد کیے بغیر چوکیوں پر پتھراؤ اور روکے جانے کی مثالیں پیش کیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں غیر معمولی طور پر مخالفانہ ماحول کا سامنا ہے کیونکہ انروا کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کی ایک زبردست مہم جاری ہے۔ یہ واقعی ایک مشکل کام ہے۔ یہ آسان نہیں ہے. ہمارے عملے کو تحفظ نہیں دیا گیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، بین الاقوامی عملہ اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے۔

اسرائیل نے انروا کے عملے پر سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے کا بارہا الزام عائد کیا۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انروا عملے کے نو ارکان ملوث ہو سکتے ہیں اور انہیں برطرف کر دیا گیا۔

جنگ بندی معاہدے نے انسانی امداد میں اضافے اور غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا ہے۔

اس معاہدے سے قبل ماہرین نے شمالی غزہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

جنگ بندی کے بعد رسد میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی غذائی پروگرام نے کہا ہے کہ 19 جنوری کو معاہدہ نافذ ہونے کے بعد 32,000 ٹن سے زیادہ خوراک غزہ میں داخل ہو چکی ہے۔

اسی بریفنگ میں عالمی ادارۂ صحت کے ڈاکٹر ریک پیپرکورن نے کہا کہ بارہ سے چودہ ہزار کے قریب مریض غزہ سے رفح راہداری کے دوسری جانب انخلاء کے منتظر ہیں۔

ہفتہ کے روز پچاس افراد کو منتقل کیا جائے گا جبکہ کچھ بچوں کی موت کے انتباہات بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رفح راہداری کے گذشتہ سال مئی میں بند ہونے کے بعد سے اس راستے یہ پہلا طبی انخلاء ہو گا۔

انہوں نے کہا، "انہیں (انخلا) فوراً دوبارہ شروع کرنا چاہیے اور ایک طبی راہداری کھلنی چاہیے۔"

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے کہا، اسرائیل غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ امداد دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں اور این جی اوز کے ذریعے ہونی چاہیے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "انسانی امداد انروا کے برابر نہیں ہے اور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی کوششوں کی حمایت کرنے کے خواہشمند لوگوں کو اپنے وسائل ان تنظیموں میں لگانے چاہئیں جو انروا کے متبادل ہیں۔ ہم قانون کی پابندی کریں گے اور انسانی بنیادوں پر امداد کی سہولت فراہم کرتے رہیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں