"خاتون کی زبان اس کی تلوار ہے"... اطالوی کہاوت کا معاصر مفہوم جانیے
روایتی اطالوی دانائی کا قول جو بصیرت، خود اعتمادی اور الفاظ کی طاقت کے بارے میں زندگی کا سبق دیتا ہے
اچھے الفاظ میں معاملات کی شدت کو کم کرنے، قائل کرنے، متاثر کرنے، بلکہ واقعات کا رخ موڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اکنامک ٹائمز (Economic Times) اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اطالوی حکمت سے منسوب ایک مشہور کہاوت ہے "خاتون کی زبان اس کی تلوار ہے اور وہ اسے شاذ و نادر ہی زنگ لگنے دیتی ہے"۔
اگرچہ یہ کہاوت انٹرنیٹ پر عام ہے اور اسے اٹلی سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم اسے ایک مستند تاریخی مثل کے بجائے روایتی اطالوی حکمت کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
اگرچہ اس کے ماخذ غیر یقینی ہیں، لیکن یہ کہاوت مقبول رہی ہے کیونکہ یہ مختلف ثقافتوں میں تسلیم شدہ اس خیال کی عکاسی کرتی ہے کہ الفاظ طاقت ور ہوتے ہیں اور تاریخ کے دوران بہت سی خواتین نے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ذہانت، مواصلات اور بصیرت کا استعمال کیا ہے۔
پہلی نظر میں یہ کہاوت مزاحیہ لگ سکتی ہے، لیکن یہ اپنے اندر گہرا پیغام رکھتی ہے۔ یہ خاتون کی زبان کو تلوار سے تشبیہ دیتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی اصل طاقت جسمانی قوت میں نہیں، بلکہ مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ جس طرح تلوار نظر انداز کیے جانے پر بیکار ہو جاتی ہے، اسی طرح یہ کہاوت عقل اور آواز کو مسلسل سنوارنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
سادہ الفاظ میں یہ مقولہ گفتگو، قائل کرنے کی صلاحیت، حاضر دماغی اور خود اعتمادی کی طاقت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اگرچہ ادوار کے ساتھ معاشروں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن مواصلات (کمیونیکیشن) اب بھی ان اہم ترین مہارتوں میں سے ایک ہے جو انسان کے پاس ہو سکتی ہے۔
کاروبار، سیاست، تعلیم یا ذاتی تعلقات، کسی بھی شعبے میں ہو، جو لوگ خود کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں، وہ زیادہ تر معاملات میں نتائج پر اثر انداز ہونے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ مقولہ اس لیے بھی مقبول ہے کیونکہ یہ ان صفات کو اجاگر کرتا ہے جنہیں بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں، جیسے :
* ذہانت
* خود اعتمادی
* قائل کرنے کی صلاحیت
* خوش اخلاقی و ظرافت
* جذباتی شعور
* مواصلات کی مضبوط مہارتیں
آج کی دنیا میں یہ صفات جنس سے قطع نظر طاقت کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔