حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں 13 روز گزر چکے ہیں۔ اس مرحلے کے لیے 42 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں اسرائیلی میڈیا نے جمعے کے روز بتایا کہ غزہ کی پٹی سے ملبہ اٹھانے کے لیے پہلی مرتبہ آئندہ ہفتے گاڑیوں کی منتقلی کی اجازت دی جائے گی۔ ان گاڑیوں میں کھدائی کرنے والی مشینیں اور ٹریکٹر کے علاوہ دیگر سامان بھی ہو گا جو منہدم عمارتوں کی درستی میں استعمال ہو گا۔
میڈیا نے مزید بتایا کہ مصر سے کرم ابو سالم کراسنگ پہنچنے والے سامان کی تفتیش ہو گی۔
ادھر العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق اسرائیل ابھی تک غزہ میں بھاری ساز و سامان کے داخلے کی اجازت سے انکار کر رہا ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں بھاری ساز و سامان، خیموں اور قافلوں کے داخلے کے حوالے سے مذاکرات آج ہفتے کو شروع ہوں گے۔
اس سے قبل جمعرات کے روز مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو ویٹکوف نے واضح کیا تھا کہ "غزہ کی پٹی میں تقریبا سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور تعمیر نو کے عمل میں شاید 10 سے 15 برس لگ جائیں ... لوگ اپنے گھروں کو واپسی کے لیے شمال کا رخ کر رہے ہیں اور وہاں کی صورت حال دیکھ کر واپس لوٹ رہے ہیں ... نہ پانی ، نہ بجلی ... وہاں ہونے والی تباہی کا حجم بہت بڑا ہے"۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ کی تباہ کن جنگ کے بعد فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہوا۔
معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا مکمل انخلا عمل میں آئے گا اور شمالی حصے میں بفرزون قائم کیا جائے گا۔
معاہدے کے متن میں مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جانب سے نقصانات کے جائزے میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی میں 5 کروڑ ٹن سے زیادہ ملبہ اٹھانے میں تقریبا 21 برس لگ جائیں گے اور اس پر 1.2 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
غالب گمان ہے کہ ملبے کے نتیجے ہلاک شدگان کی باقیات بھی موجود ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے اندازے کے مطابق ملبے کے نتیجے 10 ہزار لاشیں دبی ہوئی ہیں۔