مغربی کنارے کی کارروائی میں 'کئی دہشت گرد' ہلاک ہو گئے ہیں: اسرائیلی فوج

طمون گاؤں میں فوجی کارروائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے گذشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے میں تین فضائی حملوں میں "متعدد دہشت گردوں" کو ہلاک کر دیا ہے جہاں طمون گاؤں کے گرد ایک نئی فوجی کارروائی جاری تھی۔

عینی شاہدین نے حالیہ تشدد کے مقام طوباس اور طمون کے ارد گرد اسرائیلی افواج کی "بڑی تعداد میں" تعیناتی کی اطلاع دی۔

اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ فوج قریبی الفارعہ پناہ گزین کیمپ سے باہر نکلنے اور گھروں میں داخلے کو روک رہی ہے۔ آسمان پر ڈرونز بھی دکھائی دے رہے تھے۔

فوج نے اتوار کو علی الصبح کہا کہ ایک "تربیت یافتہ گروپ" نے طمون کے گرد فوجی کارروائیاں شروع کر دیں اور ہتھیار برآمد کیے۔

نیز کہا کہ وہ "انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کو پانچ دیہات تک توسیع دے رہی تھی۔"

فوج نے کہا کہ ایک دن پہلے فضائیہ نے قباطیہ میں "ایک دہشت گرد سیل کو نشانہ بنایا اور اسے ختم کر دیا۔"

نیز کہا، "حملے کے بعد گاڑی کے اندر موجود دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے ہونے والے ثانوی دھماکوں کی نشاندہی کی گئی۔"

فوج نے کہا کہ ہلاک شدگان میں سے ایک کو 2023 میں غزہ میں اولین جنگ بندی کے دوران اسرائیلی حراست سے رہا کیا گیا تھا۔

فوج نے ہفتے کے روز جینن میں دو حملے کرنے کی بھی اطلاع دی۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے ہفتے کی شام کہا کہ جنین کے علاقے میں اسرائیلی حملوں میں ایک 16 سالہ نوجوان سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق مغربی کنارے میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں نے کم از کم 881 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا جن میں کئی مزاحمت کار بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران فلسطینیوں کے حملوں یا علاقے میں اسرائیلی فوجی چھاپوں میں کم از کم 30 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں