غزہ پر ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کرنیوالے اسرائیلی انٹیلی جنس چیف کی سرزنش

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوجی افسران کو غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کرنے سے خبردار کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

غزہ کی پٹی کی آبادی کی نقل مکانی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے اثرات دنیا بھر میں نظر آرہے ہیں۔ اس تجویز کو عرب دنیا اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کی پٹی کو "مشرق وسطیٰ کے رویرا" میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق حالیہ پیش رفت میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ، میجر جنرل شلومی بائنڈر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے حوالے سے منصوبے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ اس سے خطے میں آگ بھڑک سکتی ہے۔ چینل 13 نے مزید کہا کہ سینئر فوجی رہنما ٹرمپ کے منصوبے کے نتائج کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوجی افسران کو غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کرنے سے خبردار کیا۔ کٹز نے فوج کو حکم دیا کہ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل شلومی بائنڈر کو اس سلسلے میں ان سے منسوب بیانات پر سرزنش کی جائے ۔ کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں یہ قبول نہیں کروں گا کہ غزہ کے بارے میں صدر ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف فوجی افسران کی تنقید ہو، ایسے بیانات جو سیاسی سطح کی ہدایات سے متصادم ہوں مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے، بینڈر نے خبردار کیا کہ جنگ سے تباہ ہونے والی پٹی کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے غزہ کے مکینوں کو نکالنے اور انہیں دوسرے ممالک میں بھیجنے کے اقدام سے بڑے سکیورٹی خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے بائنڈر کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے میں کشیدگی کو بڑھا دے گا، خاص طور پر رمضان کے قریب آنے کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔

بینڈر نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کیا اور وہ اور اسرائیلی فوج سیاسی سطح کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں اور ان کی کمان میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے کردار اور اپنے موقف سے اظہار خیال کیا ہے۔ اس معاملے پر ہونے والی بحث کے تناظر میں اور دشمن کے سیکورٹی کے نقطہ نظر سے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعے کے روز اسرائیلی چینل 14 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کی صورت حال جو تھی وہ واپس نہیں آئے گی۔ میں سن رہا تھا کہ ابو مازن (صدر محمود عباس) اور فلسطینی اتھارٹی آئیں گے اور ہمارے لیے ایک نیا غزہ لائیں گے ۔ پھر امریکی صدر آئیں گے اور کہیں گے - میں کچھ اور لانے کے لیے تیار ہوں - غزہ کی ذمہ داری بھی لے لیتا ہوں، آپ وہاں کس چیز کو ترجیح دیتے تھے ابو مازن یا امریکا؟ یہ ایک نیا آئیڈیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ بڑی تعداد میں ممالک کے رہنماؤں سے رابطے میں رہیں تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کی رہائی ہمارا مقصد ہے۔ حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ غزہ دوبارہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے بھی مقصد ہے۔ پہلے ہی لمحے سے حماس نے وعدوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے، ہم اس معاہدے کی کسی شق پر عمل درآمد نہ کرنے پر آگے نہیں بڑھیں گے۔

جمعرات کے روز اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کے رہائشیوں کی "رضاکارانہ روانگی" کی سہولت کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کی پیمانے پر مذمت کے باوجود اپنی تجویز کو دہرایا کہ ان کا ملک فلسطینی پٹی کے باشندوں کو ملک بدر کرنے کے بعد کنٹرول کرے گا۔

نقل مکانی منصوبہ اور ایک نازک جنگ بندی

جیسے ہی اسرائیل نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ اس کا غزہ کی پٹی سے غزہ کے باشندوں کی روانگی میں سہولت فراہم کرنے کا ارادہ ہے، حماس نے فوری طور پر ٹرمپ کے "بے گھر ہونے" کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔ مصر نے غزہ کی پٹی میں ہونے والی نازک جنگ بندی پر ان پیش رفتوں کے اثرات سے خبردار کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے فوج کو ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت غزہ کا کوئی بھی باشندہ جو چھوڑنا چاہتا ہے۔ کسی بھی ملک کو جو اس کا استقبال کرنا چاہتا ہے اسے ایسا کرنے کی اجازت دیجائے گی

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں سمندری اور ہوائی راستے سے روانگی کے خصوصی انتظامات کے علاوہ زمینی گزرگاہوں سے باہر نکلنے کے اختیارات شامل ہوں گے۔ غزہ کے باشندے فی الحال اس پٹی کو چھوڑنے سے قاصر ہیں۔ پٹی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی وجہ سے بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے۔

منگل کے روز، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اپنے استقبالیہ کے دوران ٹرمپ نے ایک عجیب اور بے مثال خیال پیش کیا جس کے تحت امریکہ کو غزہ کی تعمیر نو اور اقتصادی طور پر ترقی کرنے کے مقصد کے ساتھ اس پٹی کے باشندوں کو مصر اور اردن بھیجنے کے بعد اس کا کنٹرول بنبھانے کا کہا گیا۔

بہت اچھا خیال

بدھ کی شام فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ کے آئیڈیا کو "حیرت انگیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا "مطالعہ اور عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ اس اقدام کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ فلسطینی مستقل طور پر غزہ کی پٹی سے نکل جائیں گے۔ جمعرات کو ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے غزہ کے رہائشیوں کے میزبان ممالک میں ہجرت کرنے کے منصوبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے فوج کی تیاری کا خیرمقدم کیا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کسی بھی قسم کی نسلی صفائی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں