اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر حماس نے اگلے ہفتے کی دوپہر تک پٹی میں قید اسرائیلیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ "فوج اس وقت تک شدید لڑائی کے لیے واپس آئے گی جب تک کہ حماس کو مکمل شکست نہیں دی جاتی"۔ نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کے الفاظ میں غزہ میں قید تمام اسرائیلی شامل ہیں یا جنگ بندی کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر اسرائیل کے زیر حراست فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے ہفتے کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کا ایک گروپ شامل ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی سمت یعنی غزہ کے آس پاس جنگی تیاریوں کی سطح میں اضافے اور "مختلف منظرناموں" کی صورت میں وہاں کمک کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہفتے کے روز تک دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل کریں گے۔ انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہا کہ یہ ڈیڈ لائن اب بھی موجود ہے۔
حماس نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پرقائم رہنے کا عزم کرتے ہوئے اسرائیل پر اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "حماس جنگ بندی کے معاہدے کے لیے پرعزم ہے ، جس کی سرپرستی اور ضمانت ثالثوں مصر، قطر اور امریکہ دی ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے دیکھا ہے کہ ہم معاہدے پر کار بند ہیں۔قابض اسرائیل جنگ بندی کے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کررہا، اور وہ کسی بھی پیچیدگی یا تاخیر کی ذمہ دار ہے"۔
اس سے قبل حماس نے ٹرمپ کے ہفتے کی دوپہر تک تمام قیدیوں کو رہا کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز زبان معاملات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ تین ہفتے قبل طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ہی قیدیوں کو اسرائیل کے حوالے کرنے کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔ ابو زہری نے مزید کہا کہ دھمکیوں کی زبان بے محل اور نامناسب ہے اور معاملات کو پیچیدہ بناتی ہے۔
العربیہ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار کے مطابق منگل کی شام غزہ معاہدے پر اسرائیلی کابینہ کا اجلاس ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہا۔
اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کو نئی شرائط کے مطابق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور وہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی نوعیت کو بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ "کابینہ کے ارکان نے ہفتے کے روز تمام قیدیوں کو رہا کرنے کے ٹرمپ کے مطالبے کی حمایت کی. انہوں نے غزہ کے مستقبل کے لیے ٹرمپ کے انقلابی وژن کی بھی حمایت کی۔"
اسرائیلی وزراء شلومو کارہی اور بیزلیل سموٹریچ نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کو "فوری طور پر شروع" کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر مواصلات کارہی نے X پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر فوری عمل درآمد شروع کیا جائے۔ غزہ کے لوگوں کا پانی، بجلی اور خوراک بند کردی جائے۔
چار فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ان کا ملک غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے بعد اسے اپنی ملکیت میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔