خصوصی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی جیلوں سے ایک اور روسی شہری کی واپسی کے بدلے 2021 سے روس میں قید امریکی مارک فوگل کی رہائی کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں ثالثی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سعودی عرب اپنے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی کردار کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے اقدامات کو اپنانے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ریاض کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کی بنیاد پر امن و استحکام کے قیام کے فریم ورک کے اندر اس کردار کے اثر و رسوخ کو فروغ دینا ہے۔
امریکی 61 سالہ مارک فوگل کو 2021 کے موسم گرما میں ماسکو میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے انکشاف کیا کہ فوگل کی رہائی ماسکو کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد عمل میں آئی۔ یہ مذاکرات اسٹیو وٹ کوف نے کیے جو ان مذاکرات کے انتظام کے ذمہ دار ہیں۔
امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر مثبت اثر پڑے گا۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے کہاکہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ روس کی طرف سے "خیر سگالی کا اشارہ" ہے اور "کیف میں جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم" ہوسکتا ہے۔
سعودی عرب کی ثالثی
سعودی سفارت کاری کے اثر و رسوخ کے تناظر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کرانے میں سعودی عرب کامیاب ہوا، جس نے مراکش، امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور کروشیا کے 10 قیدیوں کی رہائی میں کردار ادا کیا۔