ریال کی قیمت میں کمی: ایرانی قانون سازوں کا وزیرِ اقتصادیات کو برطرف کرنے کا فیصلہ

عبدالناصر ہمتی کو دس دنوں میں مقننہ کے سامنے پیش ہونا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کی پارلیمنٹ کو بدھ کے روز قانون سازوں کی جانب سے ایک تحریک موصول ہوئی جس میں ایرانی ریال کی قدر میں شدید انحطاط کے درمیان وزیرِ اقتصادیات عبدالناصر ہمتی کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایرانی قانون کے تحت ہمتی کا 10 دنوں کے اندر مقننہ کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے تاکہ اپنے ریکارڈ کا دفاع کر سکیں۔

تہران کے رکن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے پریذائیڈنگ بورڈ کے رکن احمد نادری نے کہا کہ 91 قانون سازوں نے اس تحریک پر دستخط کیے ہیں۔

ارکانِ پارلیمان کے ہمراہ صدر مسعود پیزشکیان اور ہمتی کے درمیان ڈوبتے ہوئے ریال پر بند کمرے میں گفتگو ہوئی جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔ جولائی میں پیزشکیان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایرانی ریال تقریباً نصف قدر کھو چکا ہے۔

بلیک مارکیٹ میں ریال اب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 900,000 سے زیادہ پر فروخت ہو رہا ہے جو 2024 کے وسط میں 600,000 سے کم تھا۔

آٹھ دسمبر کو ایران کے دیرینہ اتحادی شامی صدر بشار الاسد کے زوال کے بعد سے اس انحطاط میں تیزی آئی ہے۔

امریکہ کی جانب سے کئی عشروں کی پابندیوں سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے سے 2018 میں دستبرداری اختیار کر لینے کے بعد سے افراطِ زر کی صورتِ حال مزید خراب ہوئے ہیں۔

پیزشکیان نے جوہری معاہدے کی بحالی اور پابندیاں ختم کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن سفارتی کوششوں میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اپریل 2023 میں قانون سازوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے پر وزیرِ صنعت رضا فاطمی امین کو برطرف کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں