امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے سے نئے اقدام کو واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا بھر کے لیے امدادی پروگرام کا دامن سمیٹنے کی پالیسی کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے لیے فنڈز روک دیے ہیں۔
امریکہ کے نئے صدر امریکی معیشت پر لادے گئے بوجھ امریکہ کے معاشی مستقبل کے لیے خطرناک خیال کرتے ہیں۔ اس سبب صدر ٹرمپ نیٹو رکن ممالک کو معاشی دفاعی بوجھ اٹھانے کے خلاف واضح مؤقف لے کر آئے ہیں۔
یوکرین کی امداد بھی اسی سبب خطرے میں ہے اور 'یو ایس ایڈ' کا ادارہ بھی بند کرنے کے اقدامت جاری ہیں۔
لیکن اہم بات ہے کہ فلسطینی اتھارٹی پوری طرح امریکی معیارات پر پوری اترنے کی کوشش میں ہے اور اس نے اسی ماہ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی فرمائش پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید، زخمی، یتیم ہونے والے بچوں اور بیوہ ہونے والی فلسطینی خواتین کے لیے اتھارٹی کی طرف سے امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران بھی فلسطینی اتھارٹی کے لیے امدادی رقوم بسلسلہ سیکیورٹی ٹریننگ روک دی تھی۔یہ اس کے باوجود کی اگیا کہ ٹریننگ کے لیے فنڈنگ جاری تھی۔ یہ سیکیورٹی ٹریننگ یروشلم میں قائم 'سیکیورٹی کوآرڈینیٹر' کے تحت کرائی جاتی ہیں