شام کے رہنما کے لیے عرب لیگ کے غزہ پر اجلاس میں شرکت کی دعوت
الشرع نے ٹرمپ کی غزہ تجویز کو جرم قرار دے دیا
شام کے ایوانِ صدر نے اتوار کو کہا کہ شام کے عبوری صدر احمد الشرع کو مصر کی میزبانی میں غزہ پر ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
صدارتی بیان میں کہا گیا، "شامی عرب جمہوریہ کے صدر جناب احمد الشرع کو عرب جمہوریہ مصر کے صدر کی طرف سے ایک باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے کہ وہ قاہرہ میں چار مارچ کو عرب لیگ کے غیر معمولی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں"۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بننے والے منصوبے پر تبادلۂ خیال کے لیے یہ اجلاس بلایا گیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت جنگ زدہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کر کے اسے "شرقِ اوسط کی ایک ساحلی تفریح گاہ" کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غزہ کے فلسطینی باشندے مصر اور اردن سمیت کہیں اور چلے جائیں گے۔
ٹرمپ کے منصوبے کی عرب حکومتوں کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی رہنماؤں نے شدید مخالفت کی اور اقوامِ متحدہ نے فلسطینی سرزمین میں "نسلی تطہیر" کے خلاف خبردار کیا۔
الشرع نے ٹرمپ کے منصوبے کو "ایک بہت بڑا جرم قرار دیا ہے جو واقع نہیں ہو سکتا"۔
سابق صدر بشار الاسد کی قیادت میں 2011 میں جمہوریت کے حامی مظاہروں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا گیا جو ایک تباہ کن جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس بنا پر شام کو عرب لیگ سے معطل کر دیا گیا تھا۔
دمشق کو 2023 میں علاقائی بلاک میں واپسی کی اجازت ملی۔
گذشتہ سال کے آخر میں الشرع کے انتہا پسند گروپ ھئیۃ تحریر الشام کی سربراہی میں قائم اتحاد نے ایک نہایت غیر متوقع حملے میں اسد کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے فوراً بعد انہیں عبوری صدر نامزد کر دیا گیا۔
اگرچہ الشرع کی ھئیۃ تحریر الشام نے دمشق پر قبضہ کر لیا لیکن مصر نے آخر تک اسد کی حمایت کی اور ان کی معزولی کے بعد سے اس نے شام کے ساتھ احتیاط سے معاملات طے کیے ہیں۔
اگلے ماہ قاہرہ میں ہونے والا اجلاس الشرع کے عرب لیگ میں شام کی نمائندگی کرنے کے بعد سے پہلی بار ہو گا۔