غزہ میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا چاہیے : اسرائیلی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کے حوالے سے اسرائیل کے ایک نئے سخت گیر موقف میں اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پیش رفت کے لیے غزہ کو مکمل طور پر اسلحے سے پاک کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ حماس اور اسلامی جہاد دونوں تنظیموں کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یورپی وزراء سے ملاقات کے سلسلے میں برسلز میں موجود ہیں۔ صحافیوں کو دیے گئے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اگلے مرحلے میں منتقلی کے لیے یہ دونوں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

ساعر نے باور کرایا کہ تمام قیدیوں کی رہائی سے قبل غزہ میں جنگ ہر گز نہیں روکی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو گذشتہ روز ایک بار پھر اپنا یہ عزم دہرا چکے ہیں کہ وہ غزہ میں حماس تنظیم کا اختیار ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" کے مطابق فوج کی نئی فارغ التحصیل کھیپ سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کسی بھی لمحے دوبارہ سے شدید لڑائی کی طرف لوٹنے کو تیار ہے"۔

نتین یاہو نے زور دیا کہ حماس غزہ پر حکومت ہر گز نہیں کرے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ فتح کو مذاکرات یا دیگر راستوں سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

سات اکتوبر 2023 کو غلاف غزہ کے علاقے میں اسرائیلی آباد کاروں کی بستیوں اور اسرائیلی فوجی اڈوں پر حماس تنظیم کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑ گئی تھی۔

جنگ میں اسرائیل کے شدید فضائی حملوں اور بم باری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 48300 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

تقریبا 15 ماہ سے زیادہ عرصے جاری رہنے والی جنگ کے بعد 19 جنوری 2025 کو غزہ کی پٹی میں فائر بندی معاہدے کا نفاذ ہوا۔ معاہدہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں بتدریج 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے مقابل 1904 فلسطینی قیدیوں کی رہائی مقرر ہے۔ یہ مرحلہ چھ ہفتے جاری رہے گا۔

معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جنگ کو حتمی شکل میں ختم کرنا اور بقیہ تمام قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

حماس تنظیم مستقل فائر بندی اور اسرائیل کے مکمل انخلا کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب تل ابیب حماس کو مکمل تباہ کر کے اپنا جنگی مقصد حاصل کرنے پر مصر ہے۔ غزہ کی پٹی میں اب بھی 60 سے زیادہ اسرائیلی یرغمال موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ ان میں آدھے لوگ مر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں