نماز جنازہ کے موقع پر اسرائیل نے حسن نصر اللہ کے قتل کے نئے مناظر شائع کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے نماز جنازہ کے موقع پر اسرائیل نے ان کے قتل کے نئے مناظر شائع کردیے۔ اتوار 23 فروری کو ایک طرف بیروت میں حسن نصر اللہ کی نماز جنازہ کا اجتماع جاری تھا تو دوسری طرف اسرائیلی فوج نے ان کے قتل کے مناظر شائع کردیے۔ ’’ ایکس‘‘ پر پوسٹ ایک ویڈیو کلپ میں اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرائی اویچائی نے کہا کہ فوج نے بیک وقت کئی حملے کرکے حسن نصر اللہ کو قتل کیا ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی اور بیروت میں حزب اللہ کے زیر زمین کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کے اندر دیگر فوجی انفراسٹرکچر کے ساتھ دیگر رہنما بھی مارے گئے۔ حزب اللہ کے دسیوں ہزار حامیوں نے اتوار کی صبح بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں تباہ کن اسرائیلی چھاپوں میں مارے جانے کے پانچ ماہ بعد پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

بیروت میں نصراللہ کے جنازے سے
بیروت میں نصراللہ کے جنازے سے

جنوبی بیروت میں کمیل شمعون سپورٹس سٹی اور اس کی طرف جانے والی سڑکیں سیاہ لباس میں ملبوس ہزاروں پارٹی حامیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ پارٹی کے حامیوں نے حسن نصراللہ کی تصاویر اور پارٹی کے پیلے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ سٹیڈیم میں موجود سٹینڈز اور کرسیاں بھر چکی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق اس سٹیڈم میں 78 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ سٹیڈیم کے باہر چوکوں پر مردوں کے لیے 35,000 نشستیں اور خواتین کے لیے 25,000 نشستیں مختص کی گئی تھیں۔ اس دوران حسن نصر اللہ کی گزشتہ تقاریر کے اقتباسات کو نشر کیا گیا۔ تقاریر سن کر حامیوں کی بڑی تعداد آنسو نہ روک سکی۔

نماز جنازے کی تقریب میں موجود افراد کی قیادت اعلیٰ سطحکے ایرانی وفد نے کی۔ اس وفد میں ایرانی شوریٰ کونسل کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی شامل تھے۔

جنازے کے ساتھ ساتھ حملے

قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان کے علاقوں پر کئی حملے کیے اور جنازے کی تقریب کا بھی اندازہ لگایا۔ ان حملوں میں ایک لڑکی زخمی ہو گئی۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حزب اللہ کے متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ جنازے کی تقریب شروع ہونے کے کچھ دیر بعد اسرائیلی طیاروں نے بھی بیروت اور اس کے مضافات کی فضائی حدود میں کم اونچائی پر پروازیں کیں۔

یاد رہے 27 ستمبر 2024 کو حسن نصراللہ اسرائیلی حملوں میں 64 سال کی عمر میں مارے گئے تھے۔ پارٹی کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے حارہ حریک میں ان کے زیر زمین ہیڈ کوارٹر پر حملہ میں کئی ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں