حماس نے سات اکتوبر کو تین لہروں میں حملہ کیا تھا: اسرائیلی فوجی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حال ہی میں شائع ہونے والی اسرائیلی فوجی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس نے حملہ تین لہروں میں کیا تھا ۔ اس حملے کے عروج پر 5000 سے زیادہ لوگ غزہ سے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔

فوج کی طرف سے فراہم کردہ تحقیقات کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ پہلی لہر میں 1,000 سے زیادہ جنگجو شامل تھے جنہوں نے بھاری فائرنگ کی آڑ میں دراندازی کی تھی۔ دوسری لہر میں 2,000 افراد شامل تھے اور تیسری لہر میں کئی ہزار شہریوں کے ساتھ سینکڑوں عسکریت پسندوں نے اسرائیل میں دراندازی کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 5000 جنگجو اسرائیلی علاقے میں گھس آئے۔ تحقیقات میں واضح کیا گیا کہ غلط فہمیوں کی وجہ سے سات اکتوبر کو ہونے والے حملے کا اندازہ لگانے میں ناکامی ہوئی جس میں یہ سفارش کی گئی کہ سرحد پر کسی دشمن فوجی قوت کو تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

رپورٹ میں نے حماس اور حزب اللہ کو اپنی طاقت دوبارہ بنانے اور سرحد پر مزید فوجی مقامات کی تعمیر کی اجازت نہ دینے کی بھی سفارش کی گئی۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف نے کہا کہ وہ سات اکتوبر کو ہونے والی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے تحقیقات کے نتائج وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھیجے ہیں۔

سات اکتوبر حملہ

حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے نتیجے میں 1,215 اسرائیلی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی روز اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بمباری شروع کردی تھی۔ 19 جنوری 2025 کو جنگ بندی معاہدہ نافذ ہوا تھا۔ صہیونی فوج کی بدترین جارحیت میں 48 ہزار 319 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ 20 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں