ٹرمپ کی تجویز کردہ غزہ کی 'ساحلی تفریح گاہ' غزہ والوں کے لیے ہونی چاہیے: فلسطینی وزیرِ
فلسطینی عہدیداروں نے غزہ کے باشندوں کی نقلِ مکانی "ہر لحاظ سے ناقابلِ قبول" قرار دے دی
ایک فلسطینی وزیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کی پٹی کو ایک دلکش ساحلی تفریح گاہ کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کا خیال تب تک ناقابلِ قبول ہے جب تک کہ یہ خود غزہ کے باشندوں کی رہائش کے لیے نہ ہو۔
فلسطینی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ فارسین آغابیکیان نے کہا، "غزہ کو ایک ساحلی تفریح گاہ کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنا بہت اچھا ہے لیکن اس میں غزہ کے لوگ بھی ہونے چاہیئں"۔
ٹرمپ کی غزہ تجویز میں امریکہ کا مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ، فلسطینی باشندوں کو دوسری جگہوں پر آباد کرنا اور جنگ سے تباہ حال پٹی کو "عالمی لوگوں" کے لیے ایک ساحلی تفریح گاہ میں تبدیل کرنا شامل ہے۔
آغابیکیان نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کی کسی اور جگہ نقلِ مکانی "ہر لحاظ سے ناقابلِ قبول" ہے۔
انہوں نے کہا، "اسے تفریح گاہ بنائیں لیکن اس کے اپنے لوگوں کے لیے جو طویل عرصے سے مصائب کا شکار ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی جگہ پر ایک ساحلی مقام بن جائے بجائے ایک محصور علاقے کے جس سے موت کی بو آتی ہو۔"
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کے لیے جنیوا کے دورے کے دوران آغابیکیان اقوامِ متحدہ کے نامہ نگاروں کی انجمن اے سی اے این یو سے بات کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی فلسطینی اتھارٹی کے لیے مستقبل میں علاقے کا انتظام سنبھالنا ایک "فطری پیش رفت" ہو گی، نہ کہ یہ حماس کے ہاتھ میں ہو۔
انہوں نے کہا، "فلسطینی قومی مفادات کو کسی دوسرے گروہی مفادات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ غزہ کا انتظام فلسطینی ریاست اور اس کی حکومتی شاخ کے جائز اختیار کے ذریعے ہو گا۔ ہم اسے غزہ کے مستقبل کے لیے اس طرح دیکھتے ہیں۔"
مغربی کنارے کو 'غزہ بنانا'
حماس نے جمعہ کو بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کا اگلا مرحلہ شروع کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے جس نے غزہ میں جنگ کو بہت حد تک روک دیا ہے۔
آغابیکیان نے کہا کہ 19 جنوری کو نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی "کسی بھی قیمت پر برقرار رکھی جائے گی"۔
جنگ بندی کی بدولت غزہ سے اسرائیلی قیدیوں اور اسرائیلی حراست سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ حماس نے قیدیوں کی حوالگی کی تقریبات کی ہیں۔
آغابیکیان نے کہا کہ قیدیوں سے احترام اور قانون کے مطابق سلوک کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "ہم امید کریں گے کہ مستقبل میں حوالگی کی ایسی مزید نمائشیں نہیں ہوں گی اور باقی مغویوں کی رہائی اور دوسرے مرحلے میں منتقلی آسانی سے ہو گی۔"
سینکڑوں فلسطینی جن میں سے بعض برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں بند تھے، کو مغربی کنارے میں جنگ بندی کے تحت رہا کر دیا گیا ہے۔
آغابیکیان نے کہا، "ان لوگوں کو بحالی کی بہت ضرورت ہے۔ انہیں ایک ایسے معاشرے میں ضم ہونے کی ضرورت ہے جو پہلے ہی جدوجہد اور مصائب کا شکار ہے اس لیے کئی مسائل باعثِ تشویش ہیں۔"
اسرائیلی فوج نے ایک ماہ قبل مغربی کنارے میں حماس کے خلاف ایک بڑی چھاپہ مار کارروائی شروع کی تھی جو دو عشروں میں مقبوضہ علاقے میں مسلسل طویل ترین کارروائی تھی۔
آغابیکیان نے کہا، "مغربی کنارے کی صورتِ حال انتہائی غیر مستحکم ہے۔ ہمیں جس بات کی دھمکی دی جا رہی ہے وہ مغربی کنارے کو غزہ بنا دینا ہے جس کا مطلب ہے کہ لوگ خوفزدہ ہیں کہ غزہ کی پٹی میں نسل کشی، ظالمانہ، وحشیانہ حملوں کا جو ماڈل استعمال کیا گیا، وہ مغربی کنارے میں منتقل کر دیا جائے گا۔"