روس ماسکو میں بشارالاسد کی طرف سے جمع کرائے گئے فنڈز واپس کرے:احمد الشرع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے روس سے وہ رقم مانگی ہےجو سابق حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے ماسکو میں جمع کرائی تھی۔

لیکن ذرائع نے تصدیق کی کہ حال ہی میں دمشق کا دورہ کرنے والے روسی وفد نے الشرع کو بتایا کہ بشارلا سد نے روس میں کوئی رقم جمع نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق شام کی نئی انتظامیہ اور روسی وفد کے درمیان ہونے والی بات چیت میں روس پر شام کے قرضوں پر بھی بات کی گئی جو کہ تقریباً 23 ارب ڈالر بنتے ہیں اور دمشق نے ماسکو سے ان قرضوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ماسکو کی جانب سے بشار الاسد کو دمشق کے حوالے کرنے کے امکان کے بارے میں رائیٹرز نے ایک روسی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ روس بشار الاسد کے حوالے کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ ماسکو نے شام میں روسی اڈوں پر مذاکرات میں پیشرفت کے بدلے شام کو انسانی امداد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

روسی وفد کے دورہ دمشق کے دوران شامی حکام نے اسد کی شام واپسی کے امکان پر بات کی۔ایک ذریعے کے مطابق روسی نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف کے ساتھ تین گھنٹے کی ملاقات کے دوران شامی حکام نے کہا کہ بشارلاسد کی واپسی تعلقات کی بحالی میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔

متعلقہ سیاق و سباق میں شامی اور روسی طرطوس اور حمیمیم فوجی اڈوں کے مستقبل پر بات کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں روس کے فوجی اثر و رسوخ میں ایک اہم عنصر ہیں۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق الشرع طرطوس بیس کے 49 سالہ لیز پر دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جس پر اسد دور میں دستخط کیے گئے تھے۔ وہ ایک بہتر معاہدے تک پہنچنے کے لیے حمیمیم اڈے کو ایک غیر معینہ مدت کی لیز پر دوبارہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ وہ ماسکو کو مکمل طور پر خارج کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اڈے روس سے سفارتی حمایت اور مالی معاوضے کے بدلے میں رہ سکتے ہیں۔ روس نےاسد کی حمایت کے لیے 2015 میں خانہ جنگی میں مداخلت کرنے سے پہلے سات دہائیوں تک شام کی معیشت اور دفاعی شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

بوگدانوف اور الشرع کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں شامی حکومت نے کہا کہ نئے تعلقات کے لیے ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size