موٹاپے سے پرہیز گھر سے شروع ہوتا ہے: سعودی اتھارٹی
فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات سے گریز کا خصوصی مشورہ
والدین کو ہمیشہ اپنے بچوں کی خوراک کے بارے میں بہت زیادہ آگہی رکھنی چاہیے، سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے صحت کی نگہداشت میں خاندانوں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔
چار مارچ کو موٹاپے کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں ایس ایف ڈی اے نے والدین پر زور دیا، "بچوں کو میٹھے مشروبات مثلاً سافٹ ڈرنکس کی جگہ پانی اور قدرتی پھلوں کے جوس پینے کی ترغیب دیں۔"
ایس پی اے کے ذریعہ جاری کردہ بیان میں کہا گیا، خاندانوں کو بھی "فاسٹ فوڈ کے استعمال کو نمایاں طور پر کم کرنا چاہیے جس کا وزن میں اضافے اور صحت سے متعلق مسائل میں کلیدی کردار ہے۔"
غذا کو تلنے کی بجائے ایس ایف ڈی اے نے کھانا پکانے کے زیادہ صحت مندانہ طریقوں مثلاً گرلنگ اور روسٹنگ کی وکالت کی۔
اتھارٹی نے کہا، "موٹاپے کی شرح میں عالمی سطح پر خطرناک اضافے کو تسلیم کرتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اتھارٹی زیادہ آگہی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ موٹاپا ایک پیچیدہ بیماری ہے جو تمام دنیا میں وبائی امراض کی سطح تک پہنچ چکی ہے اور 1975 کے بعد سے یہ تین گنا زیادہ تیزی بڑھ رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس میں اضافے کی وجہ سست روی کا حامل طرزِ زندگی اور غیر صحت بخش غذا ہیں۔"
موٹاپے کے صحت اور سماجی مضمرات کے جواب میں حکومت نے وژن 2030 کے تحت وسیع پیمانے پر پالیسیاں نافذ کی ہیں جن کا مقصد صحت مند آبادی پیدا کرنا اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
گلوبل اوبیسٹی آبزرویٹری کی جانب سے 2022 میں شائع کردہ ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ سعودی عرب کی تقریباً 60 فیصد بالغ آبادی زائد الوزن ہے جن میں سے 20 فیصد کو موٹا قرار دیا گیا ہے۔
بچوں میں 10.5 فیصد زائد الوزن اور 4.1 فیصد موٹے ہیں۔
مملکت میں صحت کے سرکردہ اداروں کے حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن کے موٹاپے میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک عشرہ پہلے کے مقابلے میں موٹے بالغوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔