عراق : پابندی زدہ ایران سے بجلی خریدنے کی اجازت دینے سے امریکی انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی بجلی خریدنے کے لیے پابندیاں نرم کرنے سے امریکہ نے انکار کر دیا ہے۔ یہ درخواست عراق نے امریکہ سے کی تھی تاکہ عراق کو امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے بجلی خرید نے کا موقع مل سکے۔

یہ بات ' العربیہ' کو ہفتے کے روز بتائی گئی ہے۔ ' العربیہ' کی رپورٹ کے مطابق امریکی سلامتی کے لیے مشیر جیمز ہیوٹ واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طے کر رکھا ہے ہے ایرانی رجیم کو جوہری ہتھیاروں کے لیے اپنی خواہشات کو روکنا ہو گا۔ بصورت دیگر زیادہ سے زیادہ دباؤ برداشت کرنا پڑے گا۔ '

صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جیمز ہیوٹ نے' العربیہ کو بتایا ' ہم امید کرتے ہیں کہ ایرانی رجیم اپنے عوام کے مفادات کو خطے کو غیر مستحکم کرنے کی اپنی پالیسیوں پر فوقیت دے گی۔'

ترجمان نے مزید کہا ' یہ فیصلہ امریکہ کی قومی سلامتی کی پالیسی کی روشنی میں ہے جو صدارتی یادداشت نمبر 2 میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کےبتحت ایران کو کسی بھی درجے میں معاشی اور مالیاتی ریلیف نہیں دیا جا سکتا ہے۔'

واضح رہے ایران کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیاروں کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے تاکہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکا جا سکے اور ایران یہ میزائل خطے میں اپنی اتحادی جنگجؤں کو دے کر خطے کے لیے خطرہ نہ پیدا کر سکے۔

امریکی سلامتی ترجمان نے اس موقع پر ایران کو ایک ناقابل بھروسہ توانائی فراہم کرنے والا ملک قرار دیا۔ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری نہیں کرپارہا مگر عراق کو بجلی دینا چاہتا ہے۔

جیمز ہیوٹ نے عراقی وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کی توانائی کے شعبے میں اپنے خود مختاری کے حصول کے لیے کمٹمنٹس پوری کریں بجائے اس کے کہ کسی اور پر انحصار کریں۔

انہوں نے کہا عراق کو توانائی کی فراہمی امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ امریکی کمپنیاں اپنی مہارت کی وجہ سے دینا میں اپنے شعبے میں قیادت کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں