امریکی کمپنی غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کی ذمے داری سنبھالے گی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کی جانب سے موقف میں ایک حیران کن تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی تقسیم کی ذمے داری سنبھال لے۔

فوج کے سابق سربراہ ہرتزی ہیلفی کی جانب سے اس اقدام کی شدید مخالفت سامنے آئی تھی۔

زامیر نے ایک ایسی روش اختیار کرنے کا اظہار کیا ہے جو ہیلفی سے یکسر مختلف ہو گی۔ ہیلفی نے غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم یا کسی بھی شہری پہلو کے انتظام میں اسرائیلی فوج کی شرکت کو خواہ عارضی صورت میں، سختی کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔ اس کے سبب سیاسی سطح پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی 'چینل 12' نے بتائی۔

امریکی کمپنی

اسی طرح یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایک امریکی کمپنی اس وقت فائر بندی معاہدے کے ضمن میں غزہ کے اندر شہریوں کی آمد و رفت کی نگرانی کر رہی ہے۔ یہ کمپنی اسرائیلی سپورٹ سے انسانی امداد کے انتظامی امور سنبھالنے کی امیدوار ہو سکتی ہے۔

اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخلہ روک دیا تھا۔ اگرچہ فائر بندی اور دوحہ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی طرح اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہین نے گذشتہ اتوار کو اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے لیے بجلی اور پانی کی فراہمی روک دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

غزہ کی پٹی میں 15 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی اسرائیلی خون ریز جنگ کے بعد انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے غلافِ غزہ کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر غیر معمولی حملے کے نتیجے میں شروع ہوئی۔

اقوام متحدہ کی کئی ذیلی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ فائر بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کے داخلے میں بہت سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ فائر بندی معاہدہ 19 جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوا۔

یاد رہے کہ جنگ بندی کے بعد سے فروری کے اواخر تک غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی مجموعی تعداد 7926 ہو چکی ہے۔ یہ بات فلسطینی ذرائع نے بتائی۔

البتہ یہ تعداد فلسطینی آبادی کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں