اسرائیل مزید امدادی تنظیموں کا دم گھونٹ رہا ہے: ذرائع کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گزشتہ جنوری میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے کام کو معطل کرنے کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں کی مدد کرنے والی دیگر امدادی تنظیموں پر سخت نئے قوانین کا اطلاق شروع کردیا ہے۔

باخبر ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ نئے کنٹرولز میں یہ جائزہ لینا شامل ہے کہ آیا امدادی تنظیموں یا ان کے ملازمین نے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ہفتے کے روز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل نئے قوانین نافذ کرے گا جس میں ویزے اور فلسطینی علاقوں میں انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی رجسٹریشن شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے نئے کنٹرول انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے کام کی جگہ کو کم کرنے کی وسیع تر کوششوں کے دائرہ کار کے تحت آتے ہیں۔ اسرائیل ان تنظیموں کو اپنا کام بند کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

دوسری طرف امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ نئی اسرائیلی پابندیاں مغربی کنارے اور غزہ میں ان کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے فلسطینی ملازمین کے نام اور شناختی نمبر فراہم کرنے کی ضرورت پر خصوصی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ یہ پابندیاں اسے کام بند کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔

سات اکتوبر حملے میں ملوث ہونے کا الزام

واضح رہے گزشتہ جنوری کے آخر میں اسرائیل نے ’’انروا‘‘ کے کام کو اکتوبر میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت معطل کر دیا تھا۔ اس قانون کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں انروا کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسرائیلی حکام نے ’’ انروا‘‘ کے کچھ ملازمین پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ ان الزامات کے بعد بڑے عطیہ دہندگان نے ایجنسی کو اپنی فنڈنگ بھی معطل کردی تھی۔

اگست میں اقوام متحدہ کی ایک تحقیقات نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’’ انروا ‘‘ کے 9 ملازمین اس حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے ’’انروا‘‘ فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی، انسانی اور سروسز کی امداد فراہم کررہی ہے۔ غزہ کی پٹی میں پندرہ ماہ کی جنگ کے دوران انروا نے 13 ہزار افراد کو ملازمت دی اور دوسری تنظیموں کے لیے انسانی بنیادوں پر خدمات انجام دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں