سائبر قوتیں اب خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنا رہی ہیں:ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

’کچھ مشتبہ اکاؤنٹس خلیجی ریاستوں کے شہریوں پر اختلاف اور افواہیں پھیلا کر متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ افواہیں خلیجی معاشروں میں انارکی پھیلانے کے لیے جاری آن لائن مہم کا حصہ ہیں جو خلیجی اتحاد کو نشانہ بنا رہی ہیں‘۔ یہ بات میڈیا اور سکیورٹی ماہرین کی جانب سے العربیہ کے نیوز بولیٹن کے دوران گفتگو کے دوران کہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل حملے زیادہ پیشہ ور ہو چکے ہیں، لیکن انہیں بڑھتی ہوئی عوامی بیداری کا بھی سامنا ہے جو ان کے اثرات کو محدود کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

خلیجی شناخت کو نشانہ بنانے والی سائبر جنگیں

العربیہ پر نشر ہونے والے ’الرابعہ‘ نیوز بولیٹن مصنف اور خلیجی امور کے محقق عیسیٰ العمیری نے گفتگو کرتے ہوئےوضاحت کی ہے کہ یہ گروہ خلیجی ریاستوں کو درہم برہم کرنے کے لیے ایک بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ گروہ فرقہ وارانہ اور سیاسی تنازعات کو ہوا دے کر خطے میں فرقہ وارانہ ماحول کو پھیلانے کے لیے پرعزم ہیں۔

العمیری نے کہاکہ "ہم خلیجی معاشروں کو ٹارگٹڈ اکاؤنٹس کے ذریعے نشانہ بنانے کی منظم کوششوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو اختلاف پھیلانے اور بدامنی کو ہوا دینے، جذبات سے کھیلنے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو اکسانے کے لیے حساس مسائل کا استحصال کرتے ہیں"۔

کیا گمراہ کن مہمات کا دور ختم ہو گیا ہے؟

متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کے سابق رکن ضرار بلہول الفلاسی نے زور دیا کہ خلیجی شہریوں میں بیداری کی بڑھتی ہوئی سطح کو دیکھتے ہوئے میڈیا کی یہ مہمات اب اتنی موثر نہیں رہی ہیں جو پہلے تھیں۔ شہری اپنے خلاف استعمال کیے جانے والے دھوکہ دہی کے ہتھکنڈوں سے زیادہ واقف ہو چکے ہیں۔

الفلاسی نے مزید کہاکہ "یہ مہمات نئی نہیں ہیں لیکن یہ بے نقاب ہو چکی ہیں، اور عوام ان سے نمٹنے کے طریقے کے بارے میں زیادہ آگاہ ہو چکے ہیں۔ ہمیں بدنیتی پر مبنی عناصر کے ذریعے چلائے جانے والے مشکوک اکاؤنٹس سے ہوشیار رہنا چاہیے، اور خبروں کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے‘‘۔

پیشہ ورانہ مہمات کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں

مصنف اور محقق حسن المصطفیٰ نے خبردار کیا کہ کچھ لوگ ان آن لائن مہمات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ وہ جھوٹ پھیلانے اور ایسے مواد تیار کرنے میں تیزی سے پیشہ ور ہو گئے ہیں جو کہ حقائق کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

المصطفیٰ نے نشاندہی کی کہ میڈیا کی غلط معلومات اب بے ترتیب نہیں ہیں بلکہ معاشرے کے مخصوص طبقات کو نشانہ بنانے والے ڈیٹا اور تجزیہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کا حل میڈیا کی آگاہی اور ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے میں مضمر ہے، جس سے لوگوں کو صحیح اور غلط معلومات کے درمیان فرق کرنا ممکن ہو گا۔

آگاہی اور تصدیق کے ساتھ غلط معلومات کا مقابلہ کرنا

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان مہمات کا مقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کی آگاہی کو بڑھانے اور حقائق کی جانچ پڑتال کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ قومی گفتگو کو تقویت دینا جو معاشروں کو فکری اور میڈیا کی دراندازی کی کوششوں سے بچاتا ہے ایسی مہمات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی بیداری میڈیا کی غلط معلومات کے خلاف دفاع کی پہلی لائن بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر ایسے پلیٹ فارمز کی موجودگی جو ہر کسی کو بغیر کسی پابندی کے معلومات پھیلانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے زیادہ انفرادی اور سماجی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں