فلسطینیوں کی ایک کمیونٹی نے پالتو جانوروں کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی چوریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی آبادکاروں کی طرف سے یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ ہم فلسطینیوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔
سات مارچ کو یہویدی آبادکاروں نے فلسطینی شہریوں کے علاقے راس العین پر حملہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج بھی یہودی آبادکاروں کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ تھی۔
اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے 'اوچھا' نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
مقامی رہائشی ھیثم سلیمان زائد نے اس بارے میں کہا ہے کہ 40 گاڑیاں وادی اردن کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کو لے کر پہنچی۔ یہ یہودی آبادکار فوج کی حفاظت میں آئے تھے اور انہوں نے 1500 سے زیادہ بھیڑ،بکریاں اور گائے وغیرہ چوری کر لیں۔
ھیثم کے مطابق ہم فلسطینیوں نے دن دہاڑے جانوروں کی اس چوری کو روکنے کی کوشش کی، اس موقع پر ہم نے پتھر بھی پھینکے لیکن ہم کامیاب نہ ہوسکے۔
25 سالہ فلسطینی ھیثم سلیمان کے بقول اسرائیل کی فوج یہودی آبادکاروں کے اس طرح کے حملوں میں ہمیشہ ان کا تحفظ کرتی ہے اور ان کی مدد کرتی ہے اور یہودی آبادکار اسرائیلی فوج کے بغیر اتنی بڑی کارروائیاں کر ہی نہیں سکتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اس سلسلے میں اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا کیونکہ پولیس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ اس نے اس وقت مداخلت کی تھی جب اسے 50 بھیڑیں چوری کیے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ بھیڑیں آوٹ پوسٹس سے آنے والے یہودی آبادکاروں نے ظہر کے فارم سے چوری کی تھیں۔
یاد رہے ماہ نومبر میں یہودی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان میں سے چند ایک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ پابندیاں صدر جوبائیڈن کے دور حکومت میں عائد کی گئی تھیں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچنتے ہی ان پابندیوں کا خاتمہ کر دیا۔
جنگی جرائم
اسرائیل کی پولیس اور فورسز نے اس فلسطینی کمیونٹی میں تلاشی کا عمل شروع کیا ہے۔ جہاں انہیں یہودی آبادکاروں کی چوری کردہ کچھ بھیڑیں بھی ملی ہیں۔
پولیس کے بیان کے مطابق ان بھیڑوں کے ملنے کے بعد مشتبہ فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا اوران سے تشویش جاری ہے اور وہ تسلیم کر رہے ہیں کہ کارروائی فلسطینیوں کی اپنی ہے۔
دوسری جانب 'اوچھا' کے بیان کے مطابق عینی شاہدوں نے یہودی آبادکاروں کو اپنی آنکھوں سے آتے اور حملہ آور ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس دوران فلسطینی زخمی بھی ہوئے اور تقریباً 1400 بکریوں اور بھیڑوں کو یہودی آبادکار اپنے ساتھ لے گئے جبکہ 12 کو ہلاک کر دیا۔
'اوچھا' کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں اسرائیلی فوج کی حفاظت میں آنے والے یہودی آبادکاروں نے کم از کم 3 گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔ جبکہ کئی فلسطینیوں کے شمسی توانائی پیدا کرنے والے سولر پینلز کو توڑ دیا۔
یاد رہے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کا 1967 سے قبضہ چلا آ رہا ہے۔ مغربی کنارے کے علاوہ مشرقی یروشلم کے علاقے میں بھی اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے جہاں 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں ۔ وہاں اب 5 لاکھ یہودی آبادکاروں کو بھی بیرون ملک سے لاکر بسایا گیا ہے۔ یہ یہودی آباد کار جگہ جگہ فلسطینیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
اصل ہدف فلسطینیوں کا صفایا
اقوام متحدہ کے ادارے 'اوچھا' نے ماہ فروری میں اسرائیلی بلڈوزروں سے کی گئی توڑ پھوڑ کے بعد کہا تھا کہ مسافر یطہ اور جنوبی و شمالی وادی اردن میں اب ایک میٹر جگہ بھی یہودی آبادکاروں کے حملے سے محفوظ نہیں ہے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو یہاں سے نقل مکانی پر مجبور کر کے ان کی جگہ خالی کرانا ہے۔
یاد رہے غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے میں بھی اپنی ان کارروائیوں کو تیز کیے رکھا اور اس دوران کم از کم 911 فلسطینی 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک قتل کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے گھر کر کے نکالا جا چکا ہے۔