غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوسرے روز بھی جاری رہنے اور پٹی کے مرکز اور جنوب میں زمینی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کا ایک عارضی منصوبہ ہے۔ لیکن اس کا موقع تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ہمارے پاس ابھی بھی جنگ بندی میں توسیع اور 5 یرغمالیوں کو زندہ رہا کرنے کا ایک عارضی منصوبہ موجود ہے، ان یرغمالیوں میں امریکی ایڈن الیگزینڈر بھی شامل ہے۔
اس تجویز میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کی رہائی بھی شامل ہو گی۔ جنگ بندی میں توسیع میں ناکامی کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا، "موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔"
نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے بدھ کے روز کہا تھا کہ حماس نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں اور تمام فریقوں کے دستخط شدہ معاہدے کی روشنی میں نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس ثالثوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت کو روکنے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے کا پابند بنائے۔ یہ معاہدہ 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا۔
تمام یرغمالیوں کو رہا کرو
ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اگر حماس مزید یرغمالیوں کے حوالے کرنے پر راضی ہوتی ہے تو تل ابیب نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ امریکی اے بی سی نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اسرائیل کی حملوں نئی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باقی تمام مغویوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا ہے۔
-
شدید کوششوں کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی کی ثالثوں کی پیشکش مسترد کردی
محصور کی گئی غزہ کی پٹی میں آج منگل کی صبح سے اسرائیلی نے پھر وحشیانہ حملے شروع کر ...
بين الاقوامى -
غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی 10 روز قبل کی تھی : اسرائیلی وزیر
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے وسیع حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ...
مشرق وسطی -
غزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے بالواسطہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی توقع
ایک اسرائیلی وفد مصری حکام کے ساتھ غزہ میں قیدیوں کے حوالے معاہدے پر بات کرے گا
مشرق وسطی