جنگ بندی میں توسیع کا منصوبہ اب بھی برقرار، لیکن تیزی سے ختم ہو رہا: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوسرے روز بھی جاری رہنے اور پٹی کے مرکز اور جنوب میں زمینی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کا ایک عارضی منصوبہ ہے۔ لیکن اس کا موقع تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ہمارے پاس ابھی بھی جنگ بندی میں توسیع اور 5 یرغمالیوں کو زندہ رہا کرنے کا ایک عارضی منصوبہ موجود ہے، ان یرغمالیوں میں امریکی ایڈن الیگزینڈر بھی شامل ہے۔

اس تجویز میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کی رہائی بھی شامل ہو گی۔ جنگ بندی میں توسیع میں ناکامی کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا، "موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔"

نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے بدھ کے روز کہا تھا کہ حماس نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں اور تمام فریقوں کے دستخط شدہ معاہدے کی روشنی میں نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس ثالثوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت کو روکنے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے کا پابند بنائے۔ یہ معاہدہ 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا۔

تمام یرغمالیوں کو رہا کرو

ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اگر حماس مزید یرغمالیوں کے حوالے کرنے پر راضی ہوتی ہے تو تل ابیب نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ امریکی اے بی سی نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اسرائیل کی حملوں نئی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باقی تمام مغویوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں