غزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے بالواسطہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی توقع

ایک اسرائیلی وفد مصری حکام کے ساتھ غزہ میں قیدیوں کے حوالے معاہدے پر بات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ کی پٹی میں نازک جنگ بندی کو جاری رکھنے کے لیے حالات پر گہرے اختلافات کو دور کرنے کی کوشش میں دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کر دیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو بتایا کہ ایک اسرائیلی وفد اس وقت مصر کا دورہ کر رہا ہے تاکہ مصری حکام کے ساتھ غزہ میں یرغمالیوں کے حوالے سے معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔

ان کی طرف سے مذاکرات کے قریبی ذرائع نے ایجنسی فرانس پریس کو بتایا کہ حماس کا وفد، چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ کی سربراہی میں، اتوار کو قاہرہ سے دوحہ کے لیے روانہ ہوا ہے۔ دوحہ حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی بھی کرتا ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں نازک جنگ بندی کے تسلسل کے حوالے سے حماس کے ساتھ بالواسطہ بات چیت جاری رکھے گا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وزیر اعظم نے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکی ایلچی وٹکوف کی 11 زندہ یرغمالیوں اور نصف مردہ قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کی تجویز پر ثالثوں کے ردعمل کی بنیاد پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار رہیں۔ دوسری طرف حماس کی جانب سے اسرائیلی- امریکی یرغمالی کی رہائی کی پیشکش کو مسترد کر دیا گیا اور چار دیگر لاشوں کی واپسی کو بھی مسترد کردیا گیا۔

معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو اگلے مراحل پر اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گیا لیکن کھلی جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی۔ حماس کے ایک ذریعے نے ایجنسی فرانس پریس کو بتایا ہے کہ حماس کا وفد اتوار کو دوحہ گیا ہے۔ وفد نے مصری حکام کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی ہے۔ اس بات چیت میں حماس کی جانب سے تازہ ترین امریکی تجویز کی منظوری کی روشنی میں جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

حماس کے ذریعے نے زور دے کر کہا ہے کہ وفد نے ثالثوں اور امریکی ضامنوں سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو انسانی ہمدردی کے پروٹوکول پر عمل درآمد کرنے اور فوری طور پر انسانی امداد کو پٹی میں لانے اور دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے کا پابند بنائیں۔ غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے تقریباً 15 ماہ بعد 19 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں