غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے وسیع حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے وزیر مالیات بتسلیل سموٹرچ نے نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے۔
انھوں نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ "اسرائیل نے چھ مارچ کو نئے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے منصب سنبھالنے کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اس وقت جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے دوحہ میں مذاکرات جاری تھے"۔
ایکس پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں سموٹرچ کے مطابق "غزہ پر نیا حملہ بتدریج اور سابقہ کامیابیوں سے مکمل طور پر مختلف ہو گا ... اس حملے کا مقصد حماس کو برباد کرنا اور تمام قیدیوں کو واپس لانا ہے"۔
اس سے پہلے اسرائیلی فوج اعلان کر چکی ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں درجنوں اہداف پر بم باری کی۔ فوج نے باور کرایا کہ "ضرورت باقی رہنے تک یہ حملے جاری رہیں گے، یہ فضائی حملوں سے تجاوز کر جائیں گے"۔
منگل کو علی الصبح اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں شدید فضائی حملے کیے۔ حملوں میں غزہ شہر کے علاوہ دیر البلح ، خان یونس اور رفح کو نشانہ بنایا گیا۔ العربیہ کے نمائندے نے اولین اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 330 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ادھر امریکا نے حماس تنظیم کو حالیہ کشیدگی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز کے مطابق "حماس فائر بندی میں توسیع کے لیے یرغمالیوں کو رہا کر سکتی تھی، تاہم اس نے انکار کر کے جنگ کا انتخاب کیا"۔
واضح رہے کہ 19 جنوری کو غزہ میں نافذ العمل ہونے والے فائر بندی معاہدے میں توسیع کے لیے مذاکرات چند ہفتے قبل وساطت کار ممالک (مصر، قطر اور امریکا) کے ذریعے شروع ہوئے تھے۔ تاہم ان مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی۔ اس دوران میں تل ابیب اور حماس کے درمیان الزامات کا تبادلہ چلتا رہا۔