بیروت پر اسرائیلی حملہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے: جوزف عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان کے صدر جوزف عون نے بیروت پر اسرائیلی بمباری کو اسرائیل اور لبنان کے جنگ بندی معاہدے کی خلافورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسرائیل کی جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر تازہ بمباری کے بارے میں فرانس کے صدر میکروں جمعہ کے روز بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون جمعہ کے روز فرانس کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے صدر میکروں کے ساتھ پیرس میں ملاقات کی اور اسرائیل کی بمباری سے آگاہ کیا ۔

اس موقع پر صدر میکروں نے کہا 'جمعہ کی صبح اسرائیل کی جنوبی بیروت کے مضافات پر بمباری جنگ بندی معاہدے کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے۔'

پیرس میں دونوں صدور نے ملاقات کے بعد مشترکہ طور پر گفتگو کی۔

دونوں رہنماؤں نے معاشی امور اور اصلاحات پر بھی بات چیت کی اور لبنان کے معاشی استحکام کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر میکروں نے کہا اسرائیل کی کوئی بھی سرگرمی یا سرائیلی حملہ اپنا کوئی جواز نہیں رکھتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بھی بات کرنے کا عندیہ دیا۔ تاکہ بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بات کرکے اپنی تشویش سے آگاہ کریں۔

صدر میکروں نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی کے جس فریم ورک پر اتفاق کیا تھا آج اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اس کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمارے پاس اس واقعے کی معلومات اور ثبوت ہیں کے اسرائیل نے بلاجواز جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور معاہدے کا احترام نہیں کیا۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت پر بڑا حملہ کیا۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے 'روئٹرز' نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے نومبر میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آنے والے معاہدے کے بعد پہلی شدید بمباری کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے اس نے علاقے میں ایک ڈرون ذخیرہ کرنے کی سہولت کو نشانہ بنایا ہے۔ جس کا تعلق مبینہ طور پر ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ سے ہے۔

سیکورٹی ذرائع نے 'روئٹرز' کو بتایا اسرائیل نے حملہ کیا، جس کی آواز بیروت بھر میں سنی گئی اور اس سے سیاہ دھواں ہر طرف پھیل گیا۔

نیز اسرائیل کی فوج نے علاقے سے انخلاء کے حکم پر عمارت پر تین چھوٹے ڈرون حملے کیے۔ علاقے میں موجود 'روئٹرز' کے نمائندوں کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے ملنے والے انخلاء کے حکم نے علاقے کے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا، وہ بھاگ رہے تھے۔ رش کی وجہ سے علاقے سے باہر سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گئی تھی۔

ادھ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے کہا 'لبنانی حکومت اس حملے کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ جب تک الجلیل میں امن نہیں ہوگا بیروت میں بھی امن نہیں ہوگا۔'

خیال رہے اسرائیلی وزراء اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جنہوں نے 2023 میں حزب اللہ کے حملوں کے بعد اپنے علاقوں اور گھروں کو خالی کر دیا تھا۔ اب وہ بحفاظت اپنے گھروں اور علاقوں میں واپس آسکیں گے۔

حزب اللہ کے جاری کردہ بیان میں ان حملوں سے کسی قسم کا تعلق ہونے کی تردید کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے 'یہ حملے اسرائیل و لبنان کے درمیان مفاہمت کی خلاف ورزی ہیں اور شہریوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں