لبنان اور شام کے وزرائے دفاع کی سرحدی سلامتی پر گفتگو، معاہدہ طے پا گیا

مارچ کے اوائل میں سرحدی کشیدگی شروع ہو گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام اور لبنان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی حد بندی کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا گیا، اس بات کی اطلاع جمعے کو الاخباریہ نے دی۔

سلامتی و عسکری امور پر رابطہ کاری اور تعاون کے فروغ کی غرض سے لبنان اور شام کے وزرائے دفاع نے جمعرات کو جدہ میں ملاقات کی۔

لبنانی وفد کی قیادت مرھف ابو قصرۃ نے جبکہ شامی وفد کی سربراہی مشیل منسے نے کی۔

فریقین متعدد شعبوں میں قانونی اور خصوصی کمیٹیاں تشکیل دیں گے اور سلامتی اور فوجی معاملات میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دو طرفہ رابطہ کاری کے طریقہ کار کو فعال کریں گے جو خاص طور پر سرحدی علاقے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔

مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے والے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔

وزراء نے گفتگو پر اطمینان کا اظہار اور سعودی عرب میں فالو اپ میٹنگ منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔

مارچ کے شروع میں دونوں مملک کے درمیان سرحدی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جب شام میں نئے حکام نے لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ پر الزام لگایا کہ اس نے لبنان میں تین فوجیوں کو اغوا اور قتل کیا۔

شام کے معزول صدر بشار الاسد کی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والے حزب اللہ گروپ نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔

اس کے بعد ہونے والی سرحد پار جھڑپوں میں سات لبنانی ہلاک ہو گئے۔

الشرق کے مطابق ایک بیان میں سعودی عرب نے کہا کہ اس نے سیاسی اور سفارتی گفتگو کے ذریعے شام اور لبنان کے اختلافات حل کرنے کی حمایت کی ہے جبکہ دونوں کی خودمختاری، استحکام اور بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھا جائے۔

الاخباریہ نے اطلاع دی کہ سعودی عرب نے ہر اس بات کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جس سے شام اور لبنان میں اور پورے خطے میں سلامتی و استحکام حاصل کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد ملے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں