جنوبی لبنان کے کئی قصبوں پر چھاپوں کے سلسلے کے بعد اسرائیل نے بیروت کے مضافاتی علاقے کے لوگوں کو بھی خبردار کردیا ہے۔ آج جمعہ کو اسرائیلی فوج نے ایک فوری بیان جاری کیا ہے جس میں دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے بالخصوص "حدث محلے" کے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے مزید کہا ہے کہ وہاں موجود افراد کو اب ان عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرنے اور ان سے کم از کم 300 میٹر دور رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اسی دوران دیگر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو اب لبنان کے حوالے سے وزیر دفاع سے مشاورت کر رہے ہیں۔
العربیہ / الحدث کے نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں شدید فائرنگ کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر لبنانی وزیر تعلیم ڈاکٹر ریما کرامی کی جانب سے جنوبی مضافات میں سکولوں اور حریری یونیورسٹی کمپلیکس کو خالی کرنے کی درخواست کے بعد ایسا دیکھنے میں آیا۔ جس علاقے کے حوالے سے تنبیہ کی گئی ہے اس میں 5 سکول موجود ہیں۔
العربیہ کے نامہ نگار نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ یہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی ڈرون نے دارالحکومت بیروت پر پرواز کی ہے۔ فوج نے جمعہ کی صبح ایک سابقہ مختصر بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی حملوں نے زوطر اور یحمر کے قصبوں کے مضافات کے ساتھ ساتھ جنوب میں ارنون اور کفر تبنیت کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے قعقعیۃ الجسر، الخیام، حولا، سجد، الریحان اور کفر حونۃ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
الجلیل کے مقابلے میں بیروت
یہ بمباری اس وقت کی گئی جب جمعہ کی صبح جنوبی لبنان سے الجلیل میں اسرائیلی بستیوں کی طرف دو گولے داغے گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے لبنانی حکام کو دوبارہ دھمکیاں دیں اور انہیں جنوب میں کسی بھی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ کاٹز نے راکٹ فائر جاری رہنے کی صورت میں دارالحکومت بیروت پر حملہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بیروت میں اس وقت تک سکون نہیں ہو گا جب تک الجلیل پرسکون نہیں ہو جاتا۔
دوسری طرف حزب اللہ نے میزائل داغنے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔ اس نے امریکی اور فرانسیسی سرپرستی میں گزشتہ 27 نومبر کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر اپنی وابستگی پر زور دیا۔ اس جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان خونریز جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔
اسرائیل کی خلاف ورزیاں جاری
دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود اسرائیل نے اپنی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ۔ اسرائیل تقریباً روزانہ کی بنیاد پر درجنوں بار لبنانی علاقوں پر بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے مقامات یا اس کے ارکان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تاہم لبنانی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے ایک سے زیادہ مرتبہ اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور جنوب میں ان پانچ علاقوں سے دستبردار ہونے کا پابند بنائے جن پر اس کا ابھی بھی قبضہ ہے۔