اسرائیل کی میوزک فیسٹیول پر 2023 کے حملے کی ہلاکتوں کی تعداد پر نظرِ ثانی

ہلاک شدگان کی حتمی تعداد 378 بتائی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو کہا کہ حماس کے مزاحمت کاروں کے ہاتھوں سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران سپرنووا میوزک فیسٹیول میں 378 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ اعداد و شمار اس وقت جاری کیے گئے جب فوج نے اس ہفتے متأثرین کے اہلِ خانہ اور زندہ بچ جانے والوں کو حملے کی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا۔

اس دن غزہ کی سرحد سے تین میل سے بھی کم فاصلے پر واقع رعیم میں ٹیکنو میوزک فیسٹیول میں تقریباً 3,400 افراد شریک تھے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب حماس نے جنوبی اسرائیلی کمیونٹیز پر حملہ شروع کیا تو غزہ کی پٹی سے ہزاروں راکٹ فائر کیے جانے کے صرف چھ منٹ بعد پولیس نے صبح 6:35 بجے فیسٹیول کو بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

فوج نے اطلاع دی کہ صبح 8:20 بجے "110 دہشت گردوں" کی پہلی لہر کے جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے زیادہ تر لوگ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حماس کے مزاحمت کاروں کا اصل میں تہوار پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن وہ شمالی شہر نیٹیووٹ کا راستہ بھول گئے تھے اور وہاں وہ کبھی نہ پہنچ سکے۔

تحقیقات کے مطابق فیسٹیول کے شرکاء کو بچانے کے لیے بھیجے گئے پہلے فوجی 11:20 بجے تک پہنچے۔

متأثرین کے لواحقین نے بتایا کہ فوجی حکام نے یہ نتائج پیش کرتے وقت معذرت کی اور اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔

ایک رشتہ دار نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوئی۔ ہمیں پہلے ہی پتا تھا کہ وہ ناکام ہو چکے تھے۔"

فیسٹیول میں ہونے والے قتلِ عام کے ہلاک شدگان کی حتمی تعداد 378 ہے جن میں 344 عام شہری بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے کے ہلاک شدگان کی سابقہ تعداد 370 سے زیادہ تھی۔

فیسٹیول اور اس کے گردونواح کے علاقے پر حملے کے دوران حماس نے 44 افراد کو اغوا کر لیا۔

غزہ میں سترہ قیدی باقی ہیں جن میں سے گیارہ کے زندہ ہونے کے امکانات ہیں۔

فوج کے مطابق فیسٹیول سے اغوا کردہ 19 قیدی یا تو سات اکتوبر کو ہی یا اس کے بعد قید میں ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل پر حماس کے بے مثال حملے کے نتیجے میں 1,218 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس دن اغوا کردہ 251 افراد میں سے 58 غزہ میں بدستور قید میں ہیں جن میں سے 34 کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کے وحشیانہ مظالم میں کم از کم 50,523 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں