غزہ جنگ صحافیوں کے لیے مہلک ترین، عالمی جنگوں سے زیادہ رپورٹرز کی ہلاکت
اب تک 232 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں
امریکہ میں قائم ایک تھنک ٹینک کی یکم اپریل کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ میں دونوں عالمی جنگوں، ویتنام کی جنگ، امریکی خانہ جنگی، یوگوسلاویہ کی جنگوں اور افغانستان میں امریکی جنگ سے زیادہ صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔
واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز نے کہا کہ غزہ میں اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی مظالم اور حملوں میں 232 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس لحاظ سے یہ تعداد ہر ہفتے اوسطاً 13 رپورٹرز کی ہلاکت تک پہنچ جاتی ہے۔
رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے کم از کم دو اور صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہ ہیں فلسطین ٹوڈے ٹی وی سٹیشن کے رپورٹر یوسف الفقاوی جو پیر کو ہلاک ہوئے اور ایک خاتون فلسطینی صحافی اسلام مقداد جو اتوار کو اپنے شوہر اور ان کے بچے کے ساتھ ہلاک ہو گئیں۔
طبی ماہرین نے پیر کو بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے دو بڑے ہسپتالوں خان یونس کے النصر اور دیر البلح کے وسطی شہر میں شہداء الاقصی کے باہر میڈیا کے خیموں پر راتوں رات حملہ کیا جس میں فقاوی سمیت کم از کم دو افراد ہلاک اور چھے صحافیوں سمیت نو زخمی ہوئے۔
النصر ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی ایک پریشان کن فوٹیج انٹرنیٹ پر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہے جس میں فلسطین ٹوڈے کے ایک صحافی کے زندہ جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فلسطینی اور امدادی کارکنان اسے بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی شناخت احمد منصور کے نام سے ہوئی ہے۔
غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی صحافی وائل ابو عمر نے ایکس پر کہا، "میرے ساتھی احمد منصور [اسرائیلی] میزائل حملے میں جل گیا اور بدستور انتہائی نگہداشت میں ہے۔ وہ خیمے میں آتش زدگی کے نتیجے میں شدید جھلس گیا ہے جہاں وہ نصر ہسپتال میں صحافیوں کے کیمپ میں بیٹھا تھا۔"
غزہ میں مقیم ایک فوٹو جرنلسٹ محمود بسام نے کہا، منصور کو شدید زخموں سے صحت یاب ہونے کے لیے "ایک معجزے کی ضرورت ہے"۔
ہسپتالوں کے مطابق علاقے میں الگ الگ حملوں میں پندرہ دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے مزید معلومات فراہم کیے بغیر کہا کہ اس نے حماس کے ایک مزاحمت کار کو نشانہ بنایا۔
تھنک ٹینک کے مطابق غزہ میں زخمی یا ہلاک ہونے والے زیادہ تر رپورٹرز مقامی صحافی ہیں۔ اس نے خبردار کیا کہ صحافیوں کے قتل سے "خبروں کی کوریج کو نقصان پہنچتا ہے" اور گویا "خبروں کے قبرستان" تخلیق پاتے ہیں۔
واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز نے کہا، "غیر معمولی تشدد کے سامنے تنہا کھڑے رہنے سے نہ صرف مقامی رپورٹرز کو بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ یہ خبروں کی کوریج کو بھی اور اس کے نتیجے میں تمام دنیا میں معلومات کا ماحولیاتی نظام کو متأثر کرتا ہے۔"
-
غزہ:35 دنوں سے جاری ناکہ بندی، خوراک کے بحران میں شدت
شیر خواروں کے لیے دودھ کی فراہمی بھی چیلنج بن گئی ، یونیسف
بين الاقوامى -
کیا شام کے شہر حلب میں غزہ کے لوگوں کے لیے ایک کیمپ تعمیر کیا جا رہا ہے؟
غزہ کے مکینوں کو علاقے سے باہر منتقل کرنے اور انہیں ہمسایہ ممالک یا حتی کہ شام، ...
مشرق وسطی -
میکرون کی جانب سے نقلِ مکانی اور غزہ، مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت
انہوں نے حماس کے بغیر نئی غزہ حکومت کی تجویز پیش کی
بين الاقوامى