ایران ، عراق میں اپنے ایجنٹوں کو زمین سے زمین مار کرنے والے ہتھیار دے رہا ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی اخبار The Times کے انکشاف کے مطابق ایران ، عراق میں اپنے ایجنٹوں کو خفیہ طور پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ ان میں بعض ہتھیاروں کی پہنچ براعظم یورپ تک ہے۔

اخبار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب تہران عراق میں اپنے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو طویل مار والے میزائل منتقل کر رہا ہے تا کہ خطے میں اپنے عسکری وجود میں اضافہ کر سکے۔ یہ سرگرمی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب واشنگٹن ایرانی جوہری پروگرام اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی اس کی کارروائیوں کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہو رہا ہے۔

اخبار کے مطابق ذرائع کا ماننا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب پہلی مرتبہ عراق میں اپنے اتحادیوں کو زمین سے زمین تک مار والے میزائل حوالے کر رہا ہے۔

دی ٹائمز اخبار کا کہنا ہے کہ تہران عراق میں طاقت ور شیعہ ملیشیاؤں کو ہتھیاروں کی نئی کھیپ دے کر خطے میں اپنا وجود مضبوط بنا رہا ہے۔
علاقائی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق مذکورہ ہتھیاروں کو گذشتہ ہفتے منتقل کیا گیا۔ ایران اور عراق کے درمیان مشترکہ سرحد کی لمبائی تقریبا 1000 میل ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے دو روز پہلے بتایا تھا کہ عراق کے دس کے قریب سینئر عسکری قائدین اور ذمے داران واضح کر چکے ہیں کہ ملک میں ایران کے ہمنوا گروپ غیر مسلح ہونے کے لیے تیار ہیں تاکہ امریکی انتظامیہ کے غصے سے بچ سکیں۔ مزید یہ کہ کئی مسلح گروپوں نے رواں سال جنوری سے اپنے مراکز خالی کر دیے ہیں اور عراق کے بڑے شہروں میں اپنے وجود کو کم کر دیا ہے۔

اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ذمے داران نے بغداد کو آگاہ کر دیا ہے کہ "اگر ان ملیشیاؤں کی تحلیل کے اقدامات نہ کیے گئے تو امریکا انھیں فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے"۔

جن ایران نواز گروپوں نے اپنے ہتھیار حوالے کرنے میں "لچک دار" موقف ظاہر کیا ہے ان میں "حزب اللہ بریگیڈز، النجباء بریگیڈز، سید الشہداء بریگیڈز اور انصار اللہ الاوفیاء" شامل ہیں۔

عراق میں سب سے طاقت ور شیعہ مسلح گروپ حزب اللہ بریگیڈز کے ایک کمانڈر نے شناخت چھپاتے ہوئے یہ بیان دیا ہے کہ "ٹرمپ ہمارے ساتھ جنگ کو بد ترین سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہے، ہم یہ جانتے تاہم ہم اس طرح کے برے منظر نامے سے گریز چاہتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں