مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ 19 جنوری کو طے پانے والا غزہ معاہدہ ہی پائیدار امن، مستقل جنگ بندی اور تمام مغویوں کی رہائی کے لیے کام کرنے کا واحد راستہ ہے۔
عبدالعاطی نے آج اپنے پولش ہم منصب رادو سواف شکیورسکی کے ساتھ قاہرہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی قیدیوں کے ایک گروپ کی رہائی کے لیے مصری کوششیں تیزی سے جاری ہیں، جس سے جنگ بندی کے حصول، جارحیت کو روکنے اور غزہ کی پٹی میں انسانی اور طبی امداد کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوشش جاری ہے، اور ہم قطر اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں"۔
عبد العاطی نے غزہ کی پٹی کی صورتحال کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے کہاکہ "18 مارچ کو اسرائیلی جارحیت کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے امداد کی روانی روکنے کے نتیجے میں انسانی اور طبی حالات انتہائی نازک ہیں"۔
خیال رہے کہ جنوری میں تین مراحل پر مشتمل ایک مجوزہ معاہدہ تشکیل پایا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے کے دوران، حماس نے تقریباً 1,800 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 25 زندہ اسرائیلی قیدیوں اور آٹھ لاشوں کو حوالے کیا تھا۔
-
غزہ شہر میں صبح سے پہلے اسرائیلی حملہ: بچوں سمیت 11 ہلاک
قیدیوں کی رہائی کے لیے فوجی دباؤ ہی واحد راستہ ہے: اسرائیل
مشرق وسطی -
اسرائیل نے غزہ میں تمام حدیں پار کر لی ہیں : یورپی یونین عہدے دار
غزہ کی پٹی پر روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں اور اسرائیلی فوج ...
بين الاقوامى -
اسرائیل نے غزہ کے ہسپتال کے سربراہ کو ’غیر انسانی‘ حالات میں رکھا ہوا ہے: وکیل
غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر جنہیں اسرائیلی افواج نے دسمبر میں حراست میں ...
مشرق وسطی