مسجد اقصیٰ پر بمباری کے اسرائیلی منصوبے کے بارے میں فلسطینی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اسرائیلی تنظیموں کی جانب سے مشرقی القدس میں مسجد اقصی پر بمباری کے منصوبے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ فلسطینی نیوز اینڈ انفارمیشن ایجنسی ’’ وفا‘‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں وزارت نے ان تنظیموں سے وابستہ پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی تنبیہ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس انتباہ میں مسجد اقصیٰ کو اڑا دینے اور تباہ کرنے اور اس کی جگہ مبینہ ہیکل کی تعمیر کی بات کی گئی تھی۔ وزارت خارجہ نے ان کالوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں عیسائی اور اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منظم اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے اسرائیل کے حکمران غزہ کی پٹی میں کیے جانے والے جنگی جرائم پر کمزور بین الاقوامی رد عمل کے تناظر میں اب خود کو اپنے توسیع پسندانہ اور نسل پرستانہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے قابل محسوس کر رہے ہیں۔ وزارت نے بین الاقوامی برادری اور اس کے متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اشتعال انگیزی سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جائے ۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے ہمارے لوگوں کو تنہا کرنے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت مطلوبہ اقدامات کیے جائیں۔ عالمی برادری امن کے لیے اسرائیل کو بین الاقوامی اور علاقائی خواہشات پر عمل کرنے اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی تعمیل کرنے پر مجبور کریں۔

واضح رہے اسرائیلی آباد کاروں نے گذشتہ ہفتے یہودیوں کے مذہبی تہوار کی چھٹی کے دوران اسرائیلی فورسز کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا تھا۔ غزہ میں جنگ کے متوازی طور پر اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے مشرقی القدس اور مغربی کنارے میں اپنی وحشیانہ کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ سات اکتوبر 2023 سے غزہ میں قتل عام جاری ہے اور اسی دوران صہیونی فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں 952 فلسطینیوں کو شہید اور سات ہزار سے زیادہ کو زخمی کردیا ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق 16 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی پر نسل کشی پر مبنی کارروائیاں کرکے 167000 فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں