اسرائیل کی طرف راکٹ باری کا الزام، لبنانی فوج نے لبنانی اور فلسطینی کو گرفتار کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی آرمی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ ان افراد کے ایک گروپ کے بارے میں اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جن پر اردن کے ایک سیل کو مدد فراہم کرنے اور جنوبی لبنان میں شمالی اللیطانی سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے کا الزام ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ نے اطلاع دی ہے کہ ملٹری انٹیلی جنس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بیروت کے طارق الجدید محلے میں مقیم ایک لبنانی نوجوان کو گرفتار کرلیا جو حماس کے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔ اس شخص کا نام سکیورٹی وجوہات کی بناء پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ ساتھ ہی صیدا میں ایک فلسطینی نوجوان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ چار دیگر فلسطینیوں کے ساتھ راکٹ داغنے میں ملوث تھا۔

معلومات میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنانی پارٹی کا ایک عہدیدار انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور لبنان میں حماس کی قیادت کے درمیان رابطہ کاری کر رہا ہے۔ مؤخر الذکر نے جمعرات کی سہ پہر کو ایک میٹنگ کی اور لبنانی ثالث کو مطلع کیا کہ وہ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے درخواست کردہ اپنی صفوں کے کسی بھی رکن کو حوالے کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ حماس نے اس بات کی تردید نہیں کی ہے کہ اس کے ارکان کے ایک گروپ نے راکٹ لانچنگ کی کارروائی میں حصہ لیا تھا لیکن وہ "اردنی سیل" سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کرتی ہے۔ اس کے تین ارکان لبنان میں راکٹ سازی اور اسمبلی میں تربیت یافتہ تھے۔ ایک سینئر ملٹری انٹیلی جنس افسر نے حماس کو ایک "ہاٹ میسج" بھیجا جس میں اسے فوج کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ اور لبنان، اردن اور دیگر عرب ممالک میں کسی بھی فلسطینی فریق کو سکیورٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں