حماس کا وفد جنگ بندی مذاکرات کی نئی تجاویز پر بات چیت کے لیے قاہرہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حماس کا ایک وفد منگل کے روز قاہرہ روانہ ہوا تاکہ ان نئی تجاویز پر مصالحت کاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کر سکے جو غزہ میں جنگ بندی کے لیے سامنے لائی گئی ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ کے حکام نے کہا ہے کہ پچھلے ہفتے میں حماس کی اسرائیل کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ تجاویز قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں تھی۔ تب سے اب تک مذاکرات کا سلسلہ کامیابی سے دور ہے اور کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ جبکہ اسرائیل نے مسلسل بمباری کا سلسلہ غزہ میں جاری رکھا ہوا ہے اور اس دوران سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک و زخمی کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں از سر نو جنگ کا یہ سلسلہ 18 مارچ 2025 سے شروع کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل 19 جنوری سے اختیار کردہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات پر تیار نہیں۔

حماس حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز قاہرہ روانہ ہونے والا وفد مصری حکام کے ساتھ بات کرے گا تاکہ جنگ بندی کی طرف پیش رفت کا امکان دیکھا جا سکے۔ اس وفد کی سربراہی حماس کے قائد خلیل الحیہ کر رہے ہیں۔ یہ مذاکراتی مرحلہ اسرائیل کے لیے امریکہ کے نئے سفیر مائیک ہکابی کے اسرائیل پہنچنے کے بعد شروع ہوگا۔ جنہوں نے زور دیا ہے کہ حماس جنگ بندی معاہدہ قبول کرے اور قیدیوں کی انسانی بنیادوں پر رہائی کے لیے تیار ہو۔

دوسری جانب اسرائیل نے 2 مارچ 2025 سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس وجہ سے غزہ میں خوراک ، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔ بین الاواقمی امدادی ادارے اسے قحط کا سماں بیان کرتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں جس میں غزہ کے فلسطینی بچے تک خوراک اور دودھ سے محروم ہیں ۔

'انروا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے 'ایکس' پر منگل ہی کے روز اپنے ایک بیان کہا ہے کہ غزہ تشویش اور کرب کی سرزمین بن چکی ہے۔ بھوک پھیل چکی ہے اور قحط کو جان بوجھ کر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور بھوک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاکہ دباؤ ڈالا جا سکے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔'

جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز کے تحت 45 دن کی جنگ بندی کے لیے کہا گیا اور اس دوران 10 زندہ قیدیوں کی رہائی کا حماس سے مطالبہ کیا گیا۔ تاہم حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے اور اس کے لیے قیدیوں کی رہائی کی تعداد معنی نہیں رکھتی۔

دریں اثناء منگل ہی کے روز اسرائیلی فوج نے بمباری کے نتیجے میں 26 فلسطینی مزید قتل کر دیے ہیں۔ جبکہ 10 سے زائد مکانات کو تباہ کیا گیا ہے۔ یہ بمباری خان یونس کے مرکزی علاقے میں کی گئی۔

ایک سینیئر ذمہ دار نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ابھی بھی 6 لوگوں کی لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور انہیں نکالنا باقی ہے۔

غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان محمد باسل نے 'اے ایف پی' کو بتایا تھا کہ اسرائیلی بمباری سے بلڈوزر اور دیگر ایسے آلات و مشینری بھی تباہ کر دی گئی ہے جو میونسپلٹی کی ملکیت تھیں اور ان سے ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا کام لیا جا رہا تھا۔

واضح رہے 18 مارچ سے لے کر اب تک 1890 فلسطینیوں کو اسرائیل نے مزید قتل کر دیا ہے۔ جبکہ اب تک فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 51266 ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں