غزہ نا امیدی کا گہوارہ بن چکا ہے، بھوک دانستہ طور پھیلائی جا رہی ہے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے آج منگل کے روز ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں "انسانی طور پر پیدا کردہ اور جان بوجھ کر بڑھائی جانے والی بھوک" کی شدید مذمت کی۔

اسرائیل نے گذشتہ 50 دنوں سے امداد کی فراہمی کو روکا ہوا ہے۔

لازارینی کے مطابق غزہ نا امیدی کا مرکز بن چکا ہے، بھوک جان بوجھ کر انسانوں کے ہاتھوں پھیلائی اور ابتر بنائی جا رہی ہے۔

تباہ کن جنگ اور اسرائیلی محاصرے کے 18 ماہ بعد، جس کے دوران 2 مارچ سے امدادی سامان کی غزہ تک رسائی روک دی گئی، اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 24 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ کو ایک تباہ کن انسانی بحران کا سامنا ہے۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس امدادی سامان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، تاہم حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

گذشتہ جمعرات، 12 بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا کہ غزہ میں قحط محض ایک ممکنہ خطرہ نہیں رہا، بلکہ تیزی سے پورے علاقے میں پھیل رہا ہے۔

لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ غزہ کے عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ "زخمیوں، مریضوں اور بزرگوں کو طبی سہولیات اور علاج سے محروم رکھا جا رہا ہے"۔

انھوں نے "انسانی امداد کو بطور سودے بازی کا ہتھیار اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے" کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ انسانی امداد فوری بحال کی جائے، قیدیوں کو رہا کیا جائے اور جنگ بندی کا دوبارہ اعلان کیا جائے۔

واضح رہے کہ 19 جنوری سے 17 مارچ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے دوران 33 اسرائیلی قیدیوں کو واپس لایا گیا، جن میں سے آٹھ ہلاک ہو چکے تھے، جب کہ اس کے مقابل 1800 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 51,266 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں