بین الاقوامی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ناکہ بندی کر کے غزہ میں خوراک کی ترسیل روکنا ناقابل قبول ہے۔ اسرائیل نے یہ ناکہ بندی دو مارچ سے شروع کر رکھی ہے۔ لیکن اسرائیل کے خلاف کسی ملک یا ادارے نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں نے اسرائیل کے اس غیر انسانی اور قانون کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کی مسلسل مذمت کی ہے۔ نیز اسرائیلی اقدامات کے خلاف بار بار انتباہ کرتے ہوئے کہا فلسطینیوں کو اس طرح بھوکوں مارنے کی اسرائیلی کوششوں سے ایک نئے انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے ڈائریکٹر جنرل پیرے کراہن بل نے اسرائیلی ناکہ بندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا یہ ' بالکل قابل قبول نہیں ہے۔' کیونکہ یہ ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا ' غزہ میں جاری صورت حال مکمل تباہی کے دھانے پر ہے۔ اس ناکہ بندی کی وجہ سے اگلے چند دن فیصلہ کن ہوں گے۔ کیونکہ وہ لمحہ قریب آ رہا ہے جب کھانے پینے کی تمام تر اشیا کے علاوہ ادویات بھی ختم ہونے جا رہی ہیں۔ '
واضح رہے اسرائیل کے اقوام متحد اور اس کے ذیلی اداروں کی طرف سے ان مطالبات کو بار بار مسترد کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر غزہ میں خوراک کی ترسیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسرائیل نے اس دوران غزہ میں اپنی کارروائیاں تیز تر کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔
اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کھولنے سے پہلے اس بات کی تیاری کر رہا ہے کہ وہ امدادی سامان اور خوراک کی تقسیم کے نظام کو ٹھیک کرتے ہوئے اسے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں دے جو نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اسرائیلی فوج کی مرضی کے عین مطابق تقسیم کریں اور جب چاہیں روک دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج خوراک، پانی، ادویات، بجلی اور ایندھن سمیت دیگر تمام تر قسم کے امدادی سامان کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے ذریعے وہ غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے مطالبات مجبوراً ماننے کی پوزیشن پر لے آئے۔ تاہم اس اسرائیلی منصوبے کو فی الحال اقوام متحدہ کی بڑی تنظیموں اور امدادی اداروں نے بھی تسلیم نہیں کیا۔
کراہن بل نے کہا غزہ کے لوگوں کے لیے امداد حاصل کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے پابندیاں اٹھائی جائیں تاکہ غزہ کے فلسطینیوں تک امداد پہنچ سکے۔ غزہ کی پٹی پر بڑی تعداد میں امدادی سامان موجود ہے جسے غزہ کے اندر فلسطینیوں تک پہنچنا چاہیے۔