شام کے وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ قطر شام کی نئی حکومت کو آئندہ مہینوں کے لیے پبلک سیکٹر کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد دے گا۔ یہ مدد اس طریقہ کار سے ہو گی جو ان کے بقول امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ ہے۔
قطری حکومت یا امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے جاری کردہ ایک بیان میں شامی وزیرِ خزانہ محمد برنیۃ نے بدھ کو کہا، "ہم موجودہ اجرت اور تنخواہوں کے بعض حصے کی ادائیگی کے لیے فراہم کردہ فراخدلانہ امداد پر قطری حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا، قابلِ توسیع انتظام "تین ماہ کے لیے 29 ملین ڈالر ماہانہ" کے لیے ہے اور اس میں "صحت، تعلیم اور سماجی امور کے شعبوں میں اجرت اور غیر فوجی" پنشن کا احاطہ کیا جائے گا۔
"گرانٹ کی سہولت کے لیے فوری عمل کرنے" پر امریکی محکمہ خزانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، یہ اقدام "امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ ہے۔"
شام کے عبوری حکام تقریباً 14 سال کی خانہ جنگی کے بعد بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے پر زور دے رہے ہیں۔
برنیۃ نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام "کے بعد اعتماد کو مضبوط اور پابندیاں کم کرنے کے لیے مزید اقدامات" کیے جائیں گے۔
اتحادی ترکی کے ساتھ ساتھ قطر شام کے نئے حکام کے اہم حامیوں میں سے ایک ہے۔
جنوری میں ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ قطر سرکاری شعبے کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے نئے حکام کو فنڈز فراہم کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا تھا۔
برنیۃ نے کہا، "یہ گرانٹ اقوام، متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے زیرِ انتظام ہو گی اور یہ موجودہ اجرتوں اور تنخواہوں کے تقریباً پانچویں حصے کا احاطہ کرتی ہے"۔
انہوں نے کہا، "اپنے مالیاتی نظام میں سالمیت اور اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ہم مالیاتی اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
اگرچہ بعض مغربی حکومتوں نے شام پر پابندیوں میں نرمی کی ہے لیکن واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا جب تک وہ "دہشت گردی" کے خلاف کارروائی سمیت ترجیحات پر پیش رفت کی تصدیق نہ کر لے۔
بدھ کو اپنے اولین دورۂ یورپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شام کے صدر احمد الشرع نے کہا، یورپی یونین کی مسلسل پابندیاں بلا جواز ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے زور دیا کہ اگر نئے اسلام پسند حکام ملک میں استحکام لائیں تو "یورپی اقتصادی پابندیاں بتدریج اٹھا" لی جائیں۔