العربیہ خصوصی رپورٹ

پاکستان ۔ بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں سعودی کی کامیاب مصالحت کاری کا کردار

سعودی عرب کی فریقین کی دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر تعریف، اختلافات بات چیت سے حل کرنے کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب نے اعلیٰ سطح کے رابطوں اور سعودی وزیر عادل الجبیر کے گذشتہ روز دونوں ملکوں کے دورے کے بعد دو جوہری ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ عادل الجبیر کے دورے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ دنوں دیکھی جانے والی عسکری کشیدگی ختم ہو گئی۔

سعودی عرب کی یہ ثالثی اس وقت سامنے آئی جب دونوں ملکوں کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا گیا۔ فریقین نے ممکنہ جوابی کارروائیوں کا بھی عندیہ دیا تھا جس سے بین الاقوامی برادری کو تنازع کے وسیع تر تصادم میں بدل جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے باخبر سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ریاض نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کے ساتھ اپنے متوازن تعلقات کی بنیاد پر فوری طور پر اس بحران میں مداخلت کی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق سعودی عرب کا یہ اقدام اس کی خارجہ پالیسی کے تحت تھا۔ سعودی خارجہ پالیسی کا مقصد تنازعات کی روک تھام اور علاقائی و عالمی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ شراکت داری اور ترقی یافتہ تعلقات رکھنے والا سعودی عرب ایک متوازن راستہ اختیار کیے ہوئے ہے جس پر تمام فریقین کو اعتماد حاصل ہے۔ اسی اعتماد کی وجہ سے سعودی عرب کو بحرانی اوقات میں غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ ایک خلیجی سفارتی ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب نے دونوں دارالحکومتوں کے ساتھ اپنے گہرے سیاسی اثاثوں کو فریقین کو عقل کی آواز سننے اور طاقت کی منطق پر بات چیت کو ترجیح دینے پر زور دینے میں استعمال کیا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے فوجی اور سفارتی مواصلاتی چینلز کو معمول پر لانے کے لیے عملی تجاویز دی گئی تھیں۔

جنگ بندی کا خیر مقدم

اس کے علاوہ سعودی عرب نے اپنے حالیہ بیان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں امن و سلامتی کی بحالی میں مدد ملے گی۔ اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق سلطنت دونوں فریقوں کی جانب سے دانشمندی اور تحمل کو ترجیح دینے کی تعریف کرتی ہے اور اس سلسلے میں اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی بنیاد پر اور دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے بات چیت اور پرامن طریقوں سے اختلافات کو حل کرنے کی اپنی حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ اسی تناظر میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے اس کردار کے حوالے سے محققین سے بات کی جس کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

پاکستانی وزیر اعظم نے عادل الجبیر سے موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا:
پاکستانی وزیر اعظم نے عادل الجبیر سے موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا:

ریاض بحران ختم کرنے میں کامیاب

بین الاقوامی تعلقات کے سعودی محقق ڈاکٹر سالم الیامی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے ہی سعودی عرب نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بحران کو ختم کرنے اور فریقین کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے نیک نیتی سے کوششیں کیں۔ سعودی عرب کا یہ نمایاں کردار خلا سے نہیں آیا تھا بلکہ پاکستانی فریق کے ساتھ ممتاز تاریخی تعلقات اور بھارت کے ساتھ قابل اعتماد اور اعلیٰ درجے کے قابل بھروسہ تعلقات کی بنیاد پر سامنے آیا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے عادل الجبیر سے موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا
پاکستانی وزیر اعظم نے عادل الجبیر سے موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا

مثبت اثاثے

انہوں نے اسی تناظر میں زور دیا کہ امن کی تشکیل میں سعودی عرب کا مقام اور کردار اسی طرح سعودی قیادت کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خطرے سے آگاہی نے ریاض کو ایک ایسا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جسے مبصرین نے بحران کی آگ بجھانے میں کامیاب قرار دیا۔

ڈاکٹر سالم الیامی نے ایک ٹیلی فون گفتگو میں مزید کہا ہ سعودی عرب کے کردار نے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اور مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور علاقائی مطالبات کے ساتھ لچکدار طریقے سے ہم آہنگی پیدا کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مملکت کی اس کردار کو ادا کرنے میں کامیابی کا انحصار مملکت اور اس کی قیادت کے تنازع کے دونوں فریقوں کے ہاں موجود مثبت اثاثوں پر ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سعودی وزیر مملکت کا استقبال کر رہے ہیں
بھارتی وزیر خارجہ سعودی وزیر مملکت کا استقبال کر رہے ہیں

فوری اور تیز ثالثی

دوسری جانب کویت کے سابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر سعد بن طفلہ نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب کی سفارتی ثالثی کے "فوری اور تیز" کردار کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے سعودی عرب کے کردار کو انہوں نے ممتاز قرار دیا۔ کویتی وزیر نے مزید کہا ک بھارت اور پاکستان دو بڑی اور وسیع آبادی والی جوہری طاقتیں ہیں۔ سیاست سے ہٹ کر یہ دونوں ملک عربوں کے دوست ہیں اور ان کے عوام کے ساتھ ہمارے ممتاز تاریخی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔

ڈاکٹر سعد بن طفلہ نے زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی انتہا کے بعد سعودی عرب کی ثالثی کی کوششوں نے خطے اور دنیا سے جنگ کا خطرہ دور کر دیا اور ان دونوں ممالک میں انسانی جانوں کو بچایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاض کا امن لانے والا یہ کردار خلا سے نہیں اترا بلکہ عالمی امن کے محور کے طور پر سعودی عرب کے پہلے سے ایک خاص مقام کی وجہ سے دوبارہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں سعودی عرب نے ماسکو اور کیف کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی-روسی- یوکرینی مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں