تقریب نہیں صرف تصاویر جاری ہونگی، اسرائیل میں امریکی یرغمالی عیدان کے استقبال کی تیاری

ہم غزہ میں کسی جنگ بندی نہیں صرف عیدان کی رہائی کے لیے محفوظ راہداری دینے کے پابند ہیں: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پیر کے روز ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ فوج 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں قید امریکی-اسرائیلی یرغمالی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ فوج یرغمالی عیدان الیگزینڈر کی واپسی کے لیے تیار ہو رہی ہے جسے ایک خصوصی یونٹ کے ذریعے جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب (بستی) ریم میں ابتدائی استقبالیہ سٹیشن پر منتقل کیا جائے گا۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ توقع ہے کہ ریڈ کراس اسے غزہ کی پٹی کے قریب ایک مقام پر منتقل کرے گا اور اسرائیلی فوج کے حوالے کرے گا جو اسے اسرائیل لے جائے گی جہاں وہ اپنے خاندان سے ملے گا۔ پھر وہاں سے اسے بذریعہ طیارہ ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔

حماس تحریک نے پیر کے روز امریکی یرغمالی عیدان الیگزینڈر کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔ العربیہ اور الحدث کے سینئر نمائندے زیاد حلبی نے واضح کیا ہے کہ یرغمالی عیدان کی رہائی کسی رسمی تقریب کے ساتھ نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے قیدیوں کے تبادلے کے وقت تقریب منعقد ہوتی رہی تھی لیکن اس مرتبہ حماس کی جانب سے رہائی کی تصاویر جاری کی جائیں گی۔

اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے سے غزہ میں جنگ بندی کی تصدیق کی تھی۔ یہ اعلان یرغمالی کی رہائی کے لیے ایک محفوظ راہداری کو یقینی بنانے کے لیے پٹی کی فضا میں طیاروں اور ڈرون کی پروازیں روکنے کے فیصلے کے ساتھ موافق ہے۔ پیر کے روز اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ کسی جنگ بندی یا قیدیوں کی رہائی کا پابند نہیں ہے بلکہ صرف ایک محفوظ راہداری فراہم کرنے کا پابند ہے جو اسرائیلی امریکی نظربند عیدان الیگزینڈر کی رہائی کو ممکن بنائے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے اور غزہ میں لڑائی تیز کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

پیر کے روز صدر ٹرمپ نے غزہ میں اکتوبر 2023 سے قید اسرائیلی امریکی فوجی عیدان الیگزینڈر کو رہا کرنے کے حماس کے فیصلے کی تعریف کی اور اسے "تاریخی خبر" قرار دیا۔ ٹرمپ نے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں لڑائی کے خاتمے کی امید کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ میں اس تاریخی خبر کو ممکن بنانے میں تعاون کرنے والے ہر فرد کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے عیدان کی رہائی کو "خیر سگالی کا اشارہ" قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ اس وحشیانہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے ضروری آخری اقدامات میں سے پہلا قدم ہوگا۔

ٹرمپ نے اس معاہدے میں تمام ثالثوں خاص طور پر مصر اور قطر کا بھی شکریہ ادا کیا۔یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب پیر کے روز ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا ہے کہ الیگزینڈر عیدان کو آج رہا کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اور نصف یرغمالیوں کی رہائی کی شرط پر غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب یرغمالیوں کے لیے امریکی ایلچی ایڈم بوہلر نے اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر کہا کہ وہ عیدان کی والدہ کے ساتھ اپنے بیٹے کو واپس لانے کے لیے اسرائیل جائیں گے۔ اتوار کی شام حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی امریکی فوجی الیگزینڈر عیدان کو رہا کرے گی۔ یہ اعلان اس کے عہدیداروں کی جانب سے دوحہ میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے اعلان کے فوراً بعد کیا گیا جس میں جنگ بندی اور غزہ میں امداد کی ترسیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں